شہید بانک کریمہ بلوچ کی یاد میں دنیا کے مختلف ممالک میں تعزیتی پروگراموں کا انعقاد کیا گیا جس میں مقررین نے انھیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انکی سیاسی سفر و قومی آزادی کی جہد میں اس کی فعال کردار پر روشنی ڈالی۔
مقبوضہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ،کیچ،سراوان، جھلاوان،حب، مستونگ سمیت افغانستان، میں بھی تعزیتی پروگراموں کا انعقاد کیا گیا۔
مقررین نے کینڈا کے شہر ٹورنٹو میں بی ایس او آزاد کے سابق چئیرپرسن کریمہ بلوچ کے قتل پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ
کریمہ بلوچ ایک باشعور قومی رہنما تھی انہوں نے قومی آزادی کی پْرخار جہد میں دشمن کی جانب سے دھمکیوں، مقدمات اور مشکلات کا دلیری کے ساتھ مقابلہ کیا۔ جدوجہد کی اس مشکل راہ میں کبھی بھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کی۔
افغانستان میں پناہ گزین بلوچ مہاجرین نے بھی تعزیتی پروگرام کا انعقاد کیا جس میں مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کریمہ بلوچ کو کینڈا جیسے محفوظ ملک میں پاکستانی خفیہ اداروں نے اس لیے نشانہ بنا کر شہید کیا تاکہ بلوچ ڈائسپورا کو دہشت زدہ کرکے خاموش کرسکیں مگر پاکستان کی اس ریاستی دہشتگردی کے نتائج و اثرات ان کی منصوبے کے برعکس نکلے ہیں نہ صرف بلوچ ڈائسپورا محترمہ کریمہ بلوچ کی قتل پر بھرپور احتجاج کر رہی ہے بلکہ مقبوضہ بلوچستان کے اندر بھی بلوچ عوام بے پناہ ریاستی دہشتگردی کے ماحول میں بھی خوف کے خول سے باہر آکر شدید احتجاج کر رہے ہیں اگر عالمی دہشتگردوں کے مرکز اور سرپرست پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کے ہاتھ لمبے ہیں تو بلوچ عوام اور آزادی پسندوں کے حوصلے دشمن کے اندازوں سے کہیں زیادہ بلند اور ارادے مضبوط ہیں۔
مقررین نے کہا کہ آج مقبوضہ بلوچستان سمیت کہیں بھی بلوچ پاکستانی ریاستی دہشتگردی سے محفوظ نہیں ہیں کریمہ بلوچ کو اس لیے قتل کیا گیا کہ وہ بیرونی ملک جا کر بھی خاموش نہیں تھی بلکہ بلوچ قوم پر ہونے والے جبر کے خلاف ہر دستیاب فورم پر آواز بلند کرتی تھی اور انکی شخصیت انتہائی متاثر کن تھی جس پر پاکستانی خفیہ اداروں نے انھیں نشانہ بنا کر شہید کیا،۔
مقررین نے کہا کہ ساجد بلوچ کو بھی اسی طرح جرم کا نشان چھوڑے بغیرمنظم طریقہ سے پوری صفائی کے ساتھ شہید کیا گیا اور کریمہ بلوچ کی قتل میں بھی پاکستان اسی طریقہ واردات کو استعمال کیا تاکہ اپنے جرم کو چْھپاسکے اس عالمی کرائم پر ہم سب کو مشترکہ آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔