بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے سابق چئیرمین سہراب بلوچ نے اپنے بیان میں بانک کریمہ بلوچ کی کینیڈا میں شہادت کو افسوناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات کا مقصد بلوچ قومی تحریک کو کمزور بنانے کی سازش ہے جس میں براہ راست پاکستانی خفیہ آئی ایس آئی اور فوج ملوث ہے۔
بانک کریمہ بلوچ خواتین کی لئے ایک علامت تھی جنہوں نے اپنی جدوجہد کے ذریعے نہ صرف بلوچ کاز کو قومی و عالمی سطح پر متعارف کروایا بلکہ اپنی بہادری سے بلوچ سماج میں خوف پھیلانے والے پر اسرار آوازوں کا بہادری سے مقابلہ کرکے بلوچ نوجوانوں اور خواتین کو قومی تحریک میں منظم و متحرک کیا۔
چئیرمین سہراب بلوچ نے مزید کہا کہ بانک جیسی ہستیاں صدیوں میں جنم لیتی ہے جن کا کردار اور عمل مظلوم اقوام کے خواتین اور نوجوانوں کے لئے اعلی مثال ہے۔بلوچ قومی تحریک میں انکی جدوجہد اور قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
بلوچ سیاسی کارکنان کو دنیا کے مختلف ممالک میں بے دردی سے قتل کیا جارہا ہے۔اس سے قبل استاد عارف بارکزئی،سوئیڈن میں صحافی ساجد حسین کا اندوہناک قتل،افغانستان میں بلوچ مہاجرین کا قتل اور اب کینیڈا میں بلوچ رہنماء کریمہ بلوچ کا قتل پاکستانی فوج کا کارنامہ ہے۔
ایسے عمل کی بیخ کنی کے لئے مہذب ممالک اور انسانی حقوق کے اداروں کو بلوچ نسل کشی کو روکنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے۔
چئیرمین سہراب بلوچ نے اپنے بیان کے آخر میں بلوچ نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح بانک کریمہ بلوچ نے عزم و حوصلے کی مثال قائم کرتے ہوئے بلوچ سماج میں ریاستی خوف اور پر اسراریت کے خلاف جدوجہد کی اور بلوچ قومی تحریک کو منظم و فعال کیا ہمیں بھی انکے نقش قدم پر چل کر آزادی کے اہم مقصد کے حصول کے لئے اپنی جدوجہد کو تیز کرنی چاہئیے۔