بلوچستان کے ضلع پنجگور کے علاقے گچک میں پاکستانی فوج کی درندگی جاری ہے ، مزید 4افراد کو جبری طور پر لاپتہ کردیا گیا ہے ۔
مقامی ذرائع کے مطابق گچک میں پاکستانی فوج نے دو روز پہلے ایک آپریشن کے دوران چار افراد کوحراست میں لیکر لاپتہ جبری طور پرکردیا ہے جن کی شناخت مولابخش ،دلجان ،ابراہیم اور بخشی کے نامون سے ہوگئی ہے ۔
علاقہ مکینوں کے مطابق کہ فوج نے مقامی لوگوں کی زندگیاں اجیرن کررکھی ہےں،سودا سلف لینے پر بھی لوگوں کی نگرانی کی جاتی ہے۔
مقامی افراد بتاتے ہیں کہ ایک خاندان کو ایک کلو سے زیادہ چینی خریدنے سمیت اشیائے خوردونوش کی خریداری کیلئے فوج نے اپنے شرائط نافذکردیئے ہیںجسمیں ہر گھر میں موجود فردکے حساب سے اشیائے خورد و نوش کی خریداری لازم ہوگی جبکہ اضافی راشن رکھنے کی پابندی عائد کی گئی ہے۔
مقامی ذرائع بتاتے ہیں کہ بیماری کی شکل میں پہلے مریض کو اپنا شناختی کارڈ فوج کے ہاں جمع کرنا پڑتی ہے اس کے بعد مریض کو ڈاکٹر کے ہاں لے جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔
گچک کے مقامی لوگوں کے مطابق کسی بھی مریض کوعلاج معالجے کیلئے پنجگور شہر میں لے جانے فوج نے شناختی کارڈ کی شرط لازمی کردی ہے جس کے بغیر پنجگور شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتی۔اسی طرح اگر ڈاکٹر زکسی مریض کو کوئٹہ یاکراچی ریفرکرنے کی بات کریں تو بغیر شناختی کارڈ کے انہیں کسی بھی صورت میں لے جانا ممکن نہیںہوجاتاچائے مریض کی حالت نازک کیوں نہ ہو۔
مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ فوج کی جانب سے رات کو گھروں میں شمعیںجلانے یا روشنی کرنے پر بھی پابندی عائدہے ۔اور اگر کسی نے شمعیں جلائیں تو فوج ان گھروں پر مارٹر گولے فائر کرتی ہے ۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ علاقے میں فون کے نیٹ ورک بھی بند ہیں اورکھبی نیٹ ورک بحال بھی ہوتے ہیں توفون پرلوگوں کی بات چیت مکمل ریکارڈ ہوتی ہے اور فوج کی جانب سے انہیں فون پر دھمکیاں بھی مل جاتی ہیں کہ تم نے فلاں کے ساتھ کیا بات کی ہے ۔
واضع رہے کہ دس روز قبل فوج اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے چیک پوسٹ پرچارکم سن طالب علموں کوانکے داد اور دادی سمیت حراست میںلیکر لاپتہ کیا تھا جو ہنوز لاپتہ ہیں۔