تربت : صحافی مقبول ناصر کے گھر پر چھاپہ کا معمہ حل نہ ہوسکا،رپورٹ

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

تربت سے تعلق رکھنے والے سنیئر صحافی اور بلوچی زبان کے نوجوان افسانہ نگار مقبول ناصر کے گھر پر دو دن قبل سی آئی اے پولیس نے آدھی رات کو چار دیواری پھلانگ کر اچانک چھاپہ مارا اور مقبول پر تشدد کر کے ان کی والدہ اور گھر کے دیگر خواتین کے ساتھ ہتک آمیز رویہ رکھا، ان کی والدہ کے ساتھ بدکلامی بھی کی گئی۔ اطلاع کے مطابق پولیس نے چھاپہ کے لیے پہلے ایک دہشت گرد کی گھر میں آمد،پھر ایک چور کا بھاگتے ہوئے گھر میں داخل ہونے اور آخر میں جاکر ایک ملزم کی گرفتاری کے لیے چادر و چار دیواری پامال کر کے غیر قانونی طریقے سے اند آنے کا نواز تراشا تاہم پولیس اپنے تینوں الزامات ثابت کرنے میں ناکام ہے کیوں کہ مقبول کے گھر سے کوئی دہشتگرد پکڑا گیا نا کوئی چور ملا اور نا ہی مطلوب ملزم البتہ پولیس نے اگلے پیرائے میں بیان بدل دیا اور کہا کہ مقبول کے ایک ہمسائے نے ایک مطلوب ملزم کو اپنے ہاں ہناہ دیا تھا پولیس ان کی گرفتاری کے لیے وہاں گئی تھی۔

ایک اطلاع یہ ہے کہ سی آئی اے کے انچارج حکیم دشتی اس وقت شراب کے نشے میں دھت مقبول، ان کے گھر والوں اور بلوچی زبان و ادب پر مغلظات بک رہے تھے۔

ان کے کہنے پر اہلکاروں نے مقبول کو پکڑ کر ان پر بے انتہا تشدد کیا اس دوران ان کے ایک رشتہ دار کو بھی شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ انکی والدہ ور اور دیگر خواتین جہاں موجود تھیں ان کے ساتھ حکیم دشتی اور پولیس اہلکاروں نے سخت بدتمیزی کی اور گالیاں بکیں۔

مقبول ناصر کے حوالے سے اخباری اطلاع کے مطابق کہا گیا ہے کہ پولیس کے ساتھ لیڈیز اہلکار بھی تھے مگر ان کو اندر بھیج کر زمانہ کمروں کی تلاشی لینے کے بجائے پولیس اہلکاروں نے کود کر گھر کی تلاشی لی جہاں خواتین سورہی تھی زبردستی ان کمروں میں بھی مرد اہلکار گئے۔

اس واقعہ کے بعد اگلے دن ایچ آر سی پی، بلوچستان اکیڈمی اور تربت پریس کلب نے مشترکہ طور پر ڈی۔پی او سے جا کر ملاقات کی اور ان کے سامنے حکیم دشتی کو معطل کر کے تحقیقات کرنے کا مدعی رکھا لیکن ڈی پی او نے سی آئی اے کے انچارج حکیم دشتی اور پولیس اہلکاروں کا دفاع کرتے ہوئے نا صرف حکیم دشتی کی معطلی سے انکار کیا بلکہ وفد کی موجودگی میں مقبول ناصر کو دہمکی آمیز انداز میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر میری تحقیقات میں حکیم دشتی اور پولیس بے گناہ ثابت ہوئے تو تمہارے خلاف کیس بناﺅں گا۔ اس ملاقات میں بی این پی مینگل کے رہنما بھی شامل تھے اور انہوں نے اس واقعہ کے خلاف پارٹی سطح پر آواز اٹھانے کی بات کی تاہم نا بی این پی مینگل اور نا ہی کسی دوسری جماعت نے مقبول ناصر کے مسلے پر آواز اٹھائی حتی کہ تربت پریس کلب اور بلوچستان اکیڈمی بھی خاموش رہے۔

سی آئی اے کے موجودہ انچارج حکیم دشتی انتہائی بد اخلاق اور مردہ ضمیر شخص ہیں، پولیس کے محکمہ نے موجودہ ڈی۔پی او نجیب پندرانی کی شکایت پر ان کو کچھ ماہ قبل نالائقی کے سبب معطل کیا تھا جس کو باپ کے رہنما رو¿ف رند کے کہنے پر گزشتہ مہینہ بحال کر کے سی آئی اے کا انچارج لگادیا گیا۔

یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ بلوچستان میں گزشتہ دو دہائیوں سے صحافی، ادیب اور دانشور سرکار کے ٹارگٹ پر ہیں۔ مقبول ناصر کے گھر پر چھاپہ سے ایک دن پہلے بلوچستان یونیورسٹی کے تین پروفیسر مستونگ سے اغواءکیے گئے جن میں دو پروفیسر کو اسی دن جبکہ ممتاز ادیب پروفیسر لیاقت سنی کو شدید احتجاج کے بعد رہا کردیا گیا۔

بلوچ ادیب و صحافیوں کے خلاف سرکار کی پر تشدد اور جبر آمیز کاروائیوں کا تسلسل اس وقت جاری رہے گا جب تک اس کے خلاف ایک منظم اور مربوط تحریک کا آغاز نہ کیا جائے بدقسمتی سے بلوچستان کے نام نہاد پارلیمانی قوم پرست جماعت نیشنل پارٹی اور بی این پی مینگل دونوں اندرون خانہ بڑے سرکار کے بوٹ پالیشے ہیں ان کو بلوچستان اور بلوچ کو درپیش حقیقی مسائل کے بجائے الیکشن میں ایک دو سیٹوں سے سروکار ہے اس لیے وہ مہر بہ لب ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment