آمدہ اطلاعات کے مطابق کیچ کے مرکزی شہر تربت میں پاکستانی پولیس کے خصوصی دستے سی آئی اے نے معروف بلوچ صحافی و لکھاری اور تربت پریس کلب کے ممبر مقبول ناصر کے گھر پہ چھاپہ مارا ہے۔
بلوچستان میں پاکستانی فورسز اور بالخصوص خفیہ اداروں کی جانب سے آئے روز صحافی، اساتذہ اور معاشرے کے ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے گھر پہ چھاپہ مار کر انھیں گرفتار کرکے لاپتہ کردیتا ہے۔
کوئٹہ کے مقامی صحافی ابرار احمد نے سوشل میڈیا کے ویب سائٹ ٹویئٹر پہ مقبول ناصر کے گھر پر فورسز کے چھاپے کی خبر دیتے ہوئے مقبول ناصر کے حوالے سے بتایا کہ فورسز نے انھیں ( مقبول ناصر) اور ان کے بھائی کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔
مقبول ناصر نے اپنے گھر پر پولیس کے چھاپے کو غیر قانونی قرار دیدتے ہوئے کہا کہکسی چور کی موجودگی کے شبہ کو جواز بناکر چھاپہ مارا گیا ہے۔اورمزاحمت پر مجھے اور میرے بھائیوں کو تشدد کا نشانہ بناگیا۔
انہوں نے کہاکہ باہر سے آنے والے ایک چور کی موجودگی کے شبہ پرمیرے گھر پر غیر قانونی چھاپہ سی آئی اے کی غنڈہ گردی اور دہشت پھیلانا ہے۔
ادبی اور صحافتی حلقوں نے تربت میںسی آئی اے کی جانب سے بلوچستان اکیڈمی تربت کے سابق وائس چیئرمین،تربت پریس کلب کے ممبر اور افسانہ نگار مقبول ناصر کے گھر پر چھاپہ اور فیملی کو تشدد کا نشانہ بنایانے کے گھناﺅنا عمل کی شدید مذمت کی اوراسے تشوشناک عمل قرارد یا جبکہذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔
خیال رہے کہ بلوچستان میں پاکستانی فورسز اور خفیہ اداروں کے اس وقت تک ایک درجن سے زائد بلوچ صحافی گرفتاری کے بعد لاپتہ بھی ہوئے تھے جن کی مسخ شدہ لاشیںمختلف اوقات میں مختلف علاقوں سے برآمد ہوئے۔