پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں25 نومبر کو تولی پیر روڈ کی کشادگی کے حوالے سے ہونے والے احتجاج پر پولیس کی طرف سے پر امن مظاہرین پر لاٹھی چارج اور شیلنگ کے خلاف نماز جمعہ کے بعد بن بہک میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جو بعد میں جلسہ عام کی شکل اختیار کر گیا۔
جس میں بن بہک و پکھر برادری کے زعما کرام مولانا ریاض احمد نعمانی ‘ صوبیدار ریاض ،سردار عثمان خان ،علی حسین نذیر اعوان، حوالدار اسلم ، جاوید اقبال ، قیوم اعوان ، سردار شبیر حسین ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک عرصے سے جبوتہ کو محروم رکھا گیا۔لیکن صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا ہے کیونکہ تولی پیر روڈ ایک سیاحتی اور بین الاضلاع روڈ ہونے کی وجہ سے ایک قومی سطح کا منصوبہ ہے جس کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔
بن بہک پکھر شہید گلہ و ڈنہ نمبر 4 کی برادری اس قومی پروجیکٹ کے خلاف ہونے والی ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔
اس منصوبے کو کسی سیاسی لڑائی کی بھینٹ چڑھنے دیا جائے گا اور نہ ہی اسے بیوروکریسی کی ذاتی اناﺅں اور گروہی مقاصد کی تکمیل کے لئیے ایندھن بنایا جائے گا۔جو لوگ اس منصوبے پر گروہی سیاست چمکانا چاہتے ہیں انھیں بھی معلوم ہونا چاہئیے کہ یہ منصوبہ ہماری نسلوں کے مستقبل کا سوال ہے ۔
اس لیے غیر سنجیدہ و گروہی سیاست سے باز رہتے ہوئے اس منصوبے کو فوکس کیا جائے۔ بن بہک و پکھر برادری عوامی ایکشن کمیٹی پونچھ پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ہر قسم کا جانی و مالی تعاون کرے گی اور اس قومی سطح کے منصوبے پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جائے گا۔