ضلع کیچ:ریاستی کارندہ ملا عمر بیٹوں سمیت ہلاک

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

ملا عمر ایرانی کو منگل کی شام گئے، ضلع کیچ میں پولیس نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔اس واقعہ میں ملا عمر کے دو بیٹے جن کے نام حسن اور حسین تھے بھی پولیس کی گولیاں لگنے سے بھی ہلاک ہوئے۔

ملا عمر کی ہلاکت کا واقعہ ضلع کیچ کی مرکزی شہر تربت کے پوش علاقہ سیٹلائیٹ ٹاؤن میں تربت انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے بالکل قریب ہی ایف سی کی چیک پوسٹ سے چند قدم کے فاصلے پر پیش آیا۔اس کے فورا بعد ایف سی نے بھی وہیں آکر ملا عمر کی گاڈی کو گولیوں کا نشانہ بنایا یوں پولیس اور ایف سی دونوں فورسز نے مشترکہ کاروائی میں ان کو ہلاک کردیا۔

علاقائی شاھدین کے مطابق شام سے پولیس نے سیٹلائیٹ ٹاؤن کے مختلف ایریاز میں گشت بڑھائی تھی اور کچھ اہم مقامات پر پوزیشن لے کر پولیس اور ایف سی کے اہلکار کھڑے تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ملا عمر کی ہلاکت باقاعدہ منصوبہ بندی کے نتیجے میں عمل پزیر ہوئی۔

ذرائع کے مطابق منگل کے روز ایک خفیہ ادارے نے ملا عمر کو دو مرتبہ طلب کیا تھا لیکن وہ پیشی دینے نہیں گئے۔شام کو ایف سی نے بھی اس کو ہیڈکوارٹر تربت میں بلایا مگر ملا نے جانے سے انکار کردیا تھا گویا قتل سے قبل ملا عمر سے کوئی گہری بات کی جانے والی تھی اور ملا عمر کو اس کی شاید احساس تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہونے جارہا ہے، تب ہی وہ ریاست پاکستان اسکی فوج کے مہمان ہونے کے باوجود ان کا حکم ٹالتا رہا۔

ایک خیال یہ ہے کہ شام گئے جب انہوں نے کچھ غلط محسوس کیا تو ایک گاڈی میں اپنے دونوں بیٹوں کو لے کر فرار کی کوشش کی چونکہ پولیس اور ایف سی ہر جگہ ان کے تعاقب کے لیے پہلے سے مورچہ زن تھے تو اسے راستے میں رکنے کا اشارہ کیا گیا لیکن ملا عمر نے گاڈی نہیں روکی اور مذید اسپیڈ سے بھاگنے کی ناکام کوشش کی جس کے بعد ان کا قصہ ختم کردہا گیا۔

ملا عمر کون تھے۔


آج سے کچھ سال قبل 2013 کی ایک صبح جونہی سورج رات کی تاریکی کا سینہ چھیرنے کی کوشش میں تھی تربت سے

تقریبا 60 کلومیٹر مغرب کلاھو نامی دیہات میں دھماکوں کی آوازوں نے علاقہ مکینوں کو پریشان کردیا۔ سورج نکلنے تک واضح ہوچکا تھا کہ ملا عمر کی رہائش گاہ پر بڑا حملہ کیا گیا ہے۔

دراصل ایرانی ڈرون نے اس کے گھر کو شناخت کرنے کے بعد نشانہ بنایا جس میں ان کی ایک کم سن بیٹی جان بحق ہوگئی مگر ملا عمر خود بچ گئے۔ اس واقعہ کے بعد وہ ریاست کے وی آئی پی مہمان بن کر تربت کے پوش علاقہ سیٹلائیٹ ٹاؤن میں منتقل ہوگئے اور آخر عمر تک یہیں رہائش پزیر تھے۔
وہ اکثر اوقات یہاں ایک گاڈی میں اکیلے گھومتے ان کے ساتھ کوئی محافظ نہیں ہوتا گویا ایک طرح اس نے خود کو بالکل محفوظ سمجھ لیا تھا۔
یہاں سے ان کو بلوچ تحریک کے خلاف استعمال کرنا شروع کیا گیا۔

وہ اپنی ایک مضبوط نیٹ ورک چلاتے تھے جس میں خفیہ اداروں کے تشکیل کردہ مقامی ڈیتھ اسکواڈز کو شامل کیا گیا تھا جن کی فنڈنگ ملا عمر کی زمہ داری تھی۔اس کے اسکواڈ میں یاسر بھرام ایک خاص کارندہ تھا۔ کچھ سال قبل کہیرن نگور ایک دور افتادہ گاؤں جہاں پہ ملا عمر اور یاسر بھرام کی ڈیتھ اسکواڈز نیٹ ورک اور بلوچ مزاحمت کاروں کے درمیاں گھمسان کی لڑائی ہوئی۔ دونوں جانب کئی گھنٹوں تک لڑائی کی خبر پورے بلوچستان میں پھیل گئی اگلے دن ایف سی نے تربت سے بھاری سیکیورٹی پہنچا کر دونوں کو حفاظت سے نکال دیا اور دونوں کو سیٹلائیٹ ٹاؤن جیسے پوش اور قدرے محفوظ علاقہ میں رہائش دے دیا۔

ملا عمر کہاں سے آئے۔
ملا عمر اصل میں ایرانی بلوچستان سے تعلق رکھتے تھے۔ اپنی ناپسندیدہ اور ریاست مخالف سرگرمیوں کی وجہ سے وہ ایرانی حکومت کو کئی مقدمات میں مطلوب تھے۔ منشیات کا کاروبار کرنے کے ساتھ ملا عمر ایرانی فورسز کی ہلاکت اور جیل توڑنے جیسے سنگین واقعات میں ملوث تھے۔
ایک اور بڑے پائے کے دہشتگرد حاجی حسن ایرانی جن پر ممبئی حملوں اور اجمل قصاب کو انڈیا بھیجنے کا الزام عائد ہے ملا عمر ان کے دست راست شمار ہوتے تھے۔
حاجی حسن ایرانی حکومت ایران کو سنگین جرائم میں کئی سالوں سے مطلوب ہیں تربت میں رہائش رکھتے ہیں مگر ان کا اصل ٹھکانہ کراچی اور لاہور میں ہیں۔
وہ ملا عمر اور ایرانی حکومت کو مطلوب ایسے تمام ملزمان جو پاکستان کی پناہ میں ہیں ان کا سرغنہ ہے۔

ایرانی حکومت نے ملا عمر کے ایک بھائی کو گرفتار کر کے پھانسی پر لٹکا دیا تھا ان کا ایک اور بھائی ایرانی سرحدی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک کیا گیا اور وہ خود جان بچا کر حاجی حسن ایرانی کی پناہ میں تربت آگئے جہاں پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کو ان کی شکل میں ایران کے خلاف ریشہ دوانیوں اور بلوچ تحریک آذادی کے خلاف سرگرم پتلا مل گیا جس کا بعد میں پاکستان کی خفیہ اداروں نے ہر موقع پر بھر پور
استعمال کیا۔

ان کے ہلاکت کی جو بظاہر کہانی سامنے آرہی ہے فی الحال یہ ہے کہ ایران اور پاکستان کے درمیاں کچھ روز قبل اعلی سطحی ملاقات میں ایک دوسرے کو مطلوب ایسے ملزمان جو ایک دوسرے کے ہاں رہائش پذیر ہیں حوالگی یا مارنے کا معاہدہ ہو تھا اور ملا عمر کو پہلی فرصت میں ہلاک کر کے گویا پاکستان نے ایران کو اعتماد بحال کرانے کا سگنل دیا۔

TAGGED:
Share This Article
Leave a Comment