ضلع کیچ:بلوچ سرمچاروں کا خوف پاکستانی وزیراعظم کا دورہ ناکام

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

قابض پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نیازی کا ضلع کیچ کا دورہ ناکام،ضلع بھر میں کرفیو، تمام داخلی خارجی راستے بند۔

عمران خان نیازی نے اپنی تقریر میں تربت کو ریگستان کہتے ہوئے مقبوضہ بلوچستان کی کٹھ پتلی حکومت کو شرمندہ کر دیا۔

ضلع کیچ سے نمائندہ سنگر نے گزشتہ روز جو رپورٹ کی تھی اسکی سچائی پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نیازی کی جمعہ کے روز دورہ سے واضح ہوئی جب انکی آمد سے قبل تمام داخلی و خارجی راستوں کو مکمل سیل کر دیا گیا۔

تربت ائیر پورٹ سے آرمی کیمپ اور کیچ کور و دیگر داخلی راستے مکمل بند کرنے کے ساتھ، مند،تمپ،بلیدہ ہوشاپ و ایک سو کلیو میٹر کے تمام علاقوں میں غیر اعلانیہ کرفیو نافز کیا گیا۔

تربت کے مرکزی شہر میں میں مکمل فوج کی نقل و حرکت کا سلسہ رہا جبکہ مقامی پولیس بھی صرف اپنے تھانوں تک محفوظ رہی۔
واضح رہے کہ پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ کسی ریاستی وزیر اعظم کی آمد پر اتنی سیکورٹی کا اہتمام کیا گیا ہو۔

سخت سیکورٹی میں پاکستانی وزیر اعظم کو جلسے کے پنڈال میں لایا گیا جہاں صرف کچھ انکے مقامی سیاست دانوں کے افراد کے خاندان کے علاوہ کوئی شخص نہیں تھا۔

ویڈیوز سے صاف دیکھائی دیتا ہے کہ نیازی کے پنڈال میں فوجی افراد جو سول ڈریس میں ہیں دیگر افراد سے انکی تعداد بڑی ہے۔

اپنے تقرید کے کچھ لمحے بعد جب عمران خان نیازی نے کہا کہ تربت ایک ریگستان ہے اور میں جہاز سے یہ دیکھ رہا تھا تو وہاں موجود پاکستانی فوجی کمان کے ساتھ مقامی ریاستی وزرا بھی حیران رھ گئے اور ویڈیوز میں سر جھکاتے نظر آئے۔

اسکے بعد پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نیازی نے تربت یونیورسٹی میں انہوں نے آواران اور ہوشاپ ایم ایٹ اور بسیمہ خضدار این 30 سڑکوں کا افتتاح کرنے کے ساتھ یونیورسٹی فیز ٹو اور ٹیچنگ ہسپتال تربت سے منسلک دو سو بستروں پر مشتمل ہسپتال کا افتتاح بھی کیا۔

مقامی ذرائع بتاتے ہیں کہ یہ صرف بلوچ قوم کو بے وقوف بنانے کے ہتھکنڈے ہیں۔
تربت یونیورسٹی ہی میں ان سے صوبائی وزراء کی طرف سے بلائے جانے والے کچھ شخصیات کی ملاقات بھی کرائی گئی۔علاوہ ازیں عمران خان نیازی کے دورہ تربت کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ ایئرپورٹ چوک سے ڈی بلوچ اور ایم ایٹ تربت یونیورسٹی سے جوسک کراس تک شاہراہِ ہر عام پبلک کے لیے مکمل طور پر بند کردی گئی تھی جبکہ سڑک کے قریب دکانیں اور شاپنگ مارکیٹ بھی زبردستی بند کروائے گئے۔ عمران کی سیکیورٹی کو مد نظر رکھتے ہوئے تربت کے تمام سرکاری و پرائیویٹ تعلیمی ادارے اور ہسپتال ضلعی انتظامیہ کی طرف سے بند کرائے گئے۔اس کے علاوہ شہر میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کرتے ہوئے ہر قسم کے کاروباری مراکز، دکانیں، مارکیٹس اور پٹرول پمپس بھی بند کروائے گئے جبکہ ضروری کام کے سلسلے میں سفر کرنے والے شہریوں کو سخت چیکنگ اور تزلیل کا شکار ہونا پڑا۔ انجمن تاجران کے مطابق وزیراعظم کی آمد کے موقع پر شہر میں زبردستی دکانیں بند کرکے ایمرجنسی کا ماحول پیدا کیا گیا۔ آل پارٹیز کیچ کی طرف سے پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے وزیراعظم کے دورہ کے موقع پر غیر معمولی سیکیورٹی کو کرفیو سے تشبیہ دیتے ہوئے شہریوں کو گھروں میں محصور کرنے، تمام تعلیمی ادارے بند اور شہر میں زبردستی شٹر ڈاؤن کی سخت مذمت کی گئی۔ یاد رہے کہ عمران خان کے دورہ سے ایک دن قبل شہر میں غیر اعلانیہ کرفیو کا نفاذ کرتے ہوئے انتہائی سخت سیکیورٹی ماحول بنایا گیا اور شہریوں کو شہر آنے اور واپس جاتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ہزیمت اور تزلیل کا سامنا کرنا پڑا۔ضلعی انتظامیہ کی طرف سے شہر میں تعلیمی اداروں کی بندش کے ساتھ انجمن تاجران کو تمام کاروبار مکمل سیل کرنے کی سخت وارننگ دی گئی تھی جبکہ جمعہ کو جب وزیر اعظم تربت گئے تب بھی سیکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی اور شاہراہوں کو عام ٹریفک کے لیے زبردستی بند کردیا گیا جس سے مختلف علاقوں سے تربت آنے والے مسافروں اور مقامی لوگوں کو تکلیف اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

مقامی تجزیہ نگار بتاتے ہیں ہیں کہ عمران خان نیازی کا ضلع کیچ کا دورہ نہ صرف مکمل ناکام رہا بلکہ بلوچ سرمچاروں کے حملوں کی خوف سے مقامی انتظامہ نے یہ سب انتظامات کیے تاکہ کوئی حملہ نہ ہو سکے۔

TAGGED:
Share This Article
Leave a Comment