کوئٹہ، پی ڈی ایم جلسے میں لاپتہ بلوچوں کا تذکرہ، یک جہتی یا دکھاوا؟

ایڈمن
ایڈمن
9 Min Read

اداریہ
ماہنامہ سنگر

گزشتہ دنوں 25،اکتوبر 2020 ء کو پاکستان کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کا کوئٹہ میں جلسہ عام منعقد کیا گیا،یہ جلسہ اگرچہ مسلم لیگ ن، پی پی و دیگر جماعتوں کی بالادست طبقے کی قیادت کے مقتدرہ قوتوں کے ساتھ پیدا ہونے والے مفاداتی ٹکراؤ کے باعث اپنے حریفوں پر دباؤ ڈالنے کے مقاصد کا حامل تھا لیکن اس جلسے کے تقریباًتمام جماعتوں کے مقر ررین نے بلوچستان کے لاپتہ افراد کی عدم بازیابی پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا،اس سلسلے میں ن لیگی رہنما مریم نواز کا کہنا تھا کہ جب انہیں پتہ چلاکہ ایک بہن کے تین بھا ئیوں کو کئی سال سے لاپتہ کیا گیا ہے اور میں نے ان کی تصویریں دیکھیں تو میرے آنسو نکل آئے، اسی طرح دیگر مقرر رین نے لاپتہ افراد کی عدم بازیابی کو انسانی حقوق کی بدترین پامالی قرار دیتے ہوئے ان کی بازیابی کا مطالبہ کیا، پاکستانی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے ان تقریری بیانات اور ایک رہنما کی طرف سے مبینہ طور پر آزاد بلوچستان کا نعرہ لگانے کے اقدام کو ان جماعتوں کی طرف سے بلوچ سماج کی ہمدردیاں حاصل کرنے اور یہاں اپنی سیاسی ساکھ بہتر بنانے کے تناظر میں دیکھتے ہوئے، بلوچ حلقوں کا کہنا ہیکہ اس قسم کی تقریریں ا ور بیانات ماضی میں بارہا سنے اور پڑھے گئے ہیں، جواسی وقت سامنے آتے ہیں جب پاکستان کی یہ سیاسی پارلیمانی جماعتیں جب حکومت یا اقتدار سے باہر ہوتی ہیں اور واپس اقتدار حاصل کرنے کیلئے پہلے یہ فیصلہ سازطاقت کے مراکز کے ساتھ اندرونی سازباز کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور ناکامی کی صورت میں حکمرانی کے حصول اور اپنے عوام دشمن مالی ودیگر مفادات کے تحفظ کیلئے اس قسم کی نعرہ بازی کو مخالف پردباؤ ڈالنے کے حربے کے طور پر استعمال کرتی ہیں،اور جب یہ اقتدار کے حصول اور ذاتی وگروہی مفادات کے تحفظ میں سازباز کے ذریعے کامیاب ہو جاتی ہیں تو پھر بلوچستان کے بارے میں اسی نوآبادیاتی طرز کے فکروعمل کے انتہائی سرگرم نمائندوں وکارندوں کا روپ دھار لیتے ہیں، ان بلوچ سیاسی وعوامی حلقوں کے مطابق ان سیاسی جماعتوں کا یہ دوہرا کردار کوئی مبالغہ آمیز افسانے کا حصہ نہیں بلکہ بلوچستان اور بلوچ عوم کے بنیادی قومی حقوق کے حوالے سے اختیار کردہ ان جماعتوں کے منفی اور جابرانہ خکرو عمل کی اب تک کی جیتی جاگتی تاریخ ہے،ان حلقوں کا یہ بھی کہنا ہیکہ آج لاپتہ افراد کا غم جتانے والی پیپلزپارٹی جس کے 1970 ء کی دہائی میں بلوچستان میں فوجی آپریشن کے ذریعے ڈھائے جا نے والے مظالم کو اگر ماضی بعید کا قصہ قرار دیتے ہوئے دل پر بھاری پتھر رکھ کر کچھ دیر کیلئے فراموش بھی کردیا جائے لیکن ان تازہ خون رستے ہوئے زخموں کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے جو 2008 ء میں پی پی حکومت نے بلوچ قوم کو دیئے،کیونکہ یہ زیادہ پرانا یا 1970 ء کی دبائی کا واقعہ نہیں ہے جب ممتاز بلوچ رہنماؤں چیئرمین غلام محمد،لالہ منیر اور شیر محمد بلوچ کو پی پی کے دور حکومت میں سرکاری اداروں کے ہاتھوں تربت شہر میں سرعام حراست میں لے کر لاپتہ کیا گیا، اور پھر پہلی بار اسی دور میں ان تینوں لاپتہ بلوچ رہنماؤں کو شہید کرکے ان کی مسخ شدہ لاشوں کو مرگاپ کے مقام پر کھلے آسمان تلے پھینک دیا گیا،اور اس کے بعد یہ سلسلہ ہرروز بڑھتا چلاگیا، پی پی کے اس دور میں لاپتہ بلوچوں کی انفرادی سطح پر مسخ شدہ لاشوں کی بر آمدگی کے علاوہ ان جبری گمشدہ بلوچوں کی اجتماعی قبریں بھی دریافت ہوئیں، جن میں لاپتہ بلوچوں کی لاشوں کی تعداد سینکڑوں میں بتائی گئی،جبکہ دوسری طرف پی پی حکومت نے بھی لاپتہ افراد سمیت تمام مسائل کی بنیاد بلوچ قومی سوال کو اس کے تاریخی حقائق،مسلمہ جمہوری اصول اور بلوچ قوم کی امنگوں وخواہشات کے مطابق حل کرنے کی بجائے اس سوال کے گرد ابھرنے والی کسی بھی بلوچ سیاسی تحریک اور آواز کو بزور طاقت کچلنے کا آمرانہ طرز عمل اختیار کیا،بلوچ سیاسی وسماجی حلقے مسلم لیگ ن کو بھی پی پی کی طرح بلوچستان کے قومی سیاسی تنازعہ کو ریاستی طاقت کے ذریعے دبانے وکچلنے کے عمل میں برابر کا حصہ دار قرار دیتے ہیں، ان حلقوں کے مطابق جنرل مشرف اور پی پی دور میں بھی نوازشریف نے اپوزیشن کا روپ دھار کرلاپتہ بلوچوں اور بلوچستان میں فورسز کی کا رروائیوں کے ایشوپر آج ہی کی طرح شور مچاتے ہوئے اقتدار میں آکر اسے ختم کرنے اور بلوچستان کا مسلۂ طاقت کی بجائے پرامن اور سیاسی طور پر حل کرنے کے بلند بالگ دعوے کئے تھے مگر جب نوازشریف کو اقتدار ملا تواس نے بلوچستان میں طاقت کے استعمال کی اسی ڈگر کو اختیار کیا جس پر پیپلزپارٹی چل رہی تھی،صرف یہی نہیں بلکہ نوازشریف نے سی پیک ودیگر چینی میگا پر اجیکٹس کی جسے وہ اور اس کی جما عت فخریہ طور پر اپنا بڑا کارنامہ قرار دیتی ہے بلوچستان میں بنیادیں کھڑی کرکے بلوچ سماج میں اپنی قومی بقاء،سرزمین،وسائل اور ساحل سے محرومی کے خطرات و خدشات پیدا کردئے اور بلوچستان کو چین کے حوالے کرکے علاقائی وعالمی سامراجی قوتو ں کی باہمی کشمکش اور جنگوں کے میدان میں بدل دیا ہے، سیاسی وسماجی حلقوں کے مطابق یہی کردار پاکستان کی دیگر سیاسی ومذہبی حماعتوں کا بھی ہے جو لاپتہ افراد سمیت بلوچستان میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی اور بلوچ قومی سوال کے بارے میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن سے الگ اور مختلف فکر وعمل نہیں رکھتیں، اور بلوچستان کے مسلے کے بلوچ سماج کی امنگوں وخواشات کے مطابق حل کی بجائے اسے بزورطاقت دبانے اور کچلنے کیلئے نہ صرف اقتدار کے دوران بلکہ بعض صورتوں میں اس کے بعد بھی ان تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کی قیادتیں اپنے موجودہ اور عارضی حریفوں کے ساتھ ہمیشہ ایک پیج اور صفح پر ہی یکجا نظر آتی ہیں،لہذا ایسی صورت میں ضرورت اس امرکی ہیکہ سیاسی ومذہبی حماعتوں کی قیادتیں کھوکھلی نعرے بازی کی بجائے بلوچستان کے حقیقی حل کیلئے بلوچ سماج سے سامنے آنے والی آوازوں،امنگوں و خواہشات اور مطالبات کے مطابق اپنا کردار ادا کریں، اور بلوچ سرزمین کی وحدت قومی شناخت کو تسلیم کریں اور انھیں آزاد اور خود مختیار ریاست تسلیم کریں۔

تاریخ گواہ ہے کہ ان پاکستانی سیاسی جماعتوں نے ہر وقت اپنے مفادات کی خاطر عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی ہے،مگر بلوچ عوام اب ان دہرئے ہتھکنڈوں کو سمجھ چکی ہے،وہ اپنی قومی شناخت کے لیے آج لہولہان ہے،ہزاروں بلوچ فرزند فورسز ہاتھوں لاپتہ ہیں۔ہزاروں شہید ہو چکے ہیں بلوچ کی یہ جدوجہد عالمی قوانین کے مطابق ہے اور عالمی قوانین کے روح سے اگر دیکھا جائے تو یہ تمام مسنگ بلوچ عالمی انسانی قوانین کے مطابق بازیابی کا حق رکھتے ہیں۔
مقبوضہ بلوچستان کے نام نہاد پاکستان نواز سیاست دان اب اپنے دوغلے نعروں سے بلوچ قوم کو بے وقوف نہیں بنا سکتے،پی ڈی ایم کاکوئٹہ جلسہ شاید انکے لیے کچھ ذاتی مفادات یا فوج کے ساتھ ڈیل کی وجہ بنے مگر بلوچ کے لیے یہ سب قاتل ہیں،اور آج بلوچ سماج اس بات کو اچھی طرح سمجھ چکی ہے، اور قومی آزادی کی جہد توانائی کے ساتھ اپنی منزل کی جانب رواں ہے۔
٭٭٭

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
TAGGED:
Share This Article
Leave a Comment