پی ڈی ایم کوئٹہ جلسہ : طاقت کے استعمال سے ہم وطنوں کو لاپتہ کیا جارہا ہے،نواز شریف

ایڈمن
ایڈمن
11 Min Read

پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا تیسرا جلسہ کوئٹہ میں جاری ہے۔ اپوزیشن رہنماو¿ں کی جانب سے تقاریر میں حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی جا رہی ہے۔

اپوزیشن رہنماو¿ں میں سے جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز، سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی اور دیگر رہنما جلسہ گاہ میں موجود ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو اس وقت انتخابی مہم کے سلسلے میں گلگت بلتستان میں موجود ہیں جہاں سے وہ آج کے جلسے سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے۔

جلسے میں آفتاب احمد خان شیرپاو¿، محمود خان اچکزئی، میاں افتخار حسین، مولانا عبدالغفور حیدری، پروفیسر ساجد میر اور دیگر رہنما بھی موجود ہیں۔

پی ڈی ایم کے جلسے میں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں اور شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے اور موبائل سروس بھی معطل ہے۔

مسلم لیگ ن کے تاحیات صدرنواز شریفنے جلسے سے ویڈیو سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اب ووٹ کی عزت کوئی پامال نہیں کر سکے گا اور کوئی ووٹ کی عزت کی طرف کوئی میلی آنکھ سے بھی نہیں دیکھ سکے گا۔

انھوں نے کہا کہ یہ جذبہ میں نے گوجرانوالہ، کراچی اور اب کوئٹہ میں دیکھا ہے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ’میرے بہنوں اور بھائیو اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔‘

انھوں نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ پاکستان کے عوام ایک ہی قافلے کا حصہ بن گئے ہیں۔

انھوں نے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ پر پابندی کی مذمت کی۔

انھوں نے کہا کہ ہمارے ہم وطن آج بھی اٹھائے جار ہے ہیں۔ کوئی پتا نہیں انھیں آسمان کھا گیا یا زمین نکل گئی۔ انھوں نے کہا کہ دکھی ماو¿ں بہنوں اور بیٹیوں کو دیکھتا ہوں تو دکھ ہوتا ہے کہ کب تک یہ سب ہوتا رہے گا۔ ہماری طاقت اپنوں پر استعمال کی جاتی رہے گی۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انھیں علم ہے کہ بلوچستان کے لوگوں کو کس طرح کے مسائل کا سامنا رہا ہے اور اب وہ کن حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔

انھوں نے موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کا طوفان آ چکا ہے۔ آٹا، چینی اور روٹی کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ نان بائی اب یہ احتجاج کر رہے ہیں کہ روٹی کی قیمت 30 روپے کی جائے۔

انھوں نے کہا اشیائے خوردونوش کے علاوہ دواو¿ں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو چکا ہے۔

ان کے مطابق غربت میں اضافے کی وجہ سے لوگ اپنے بچوں کو موت کے منہ میں جاتے دیکھتے ہیں مگر انھیں دوائیاں لے کر نہیں دے سکتے۔

انھوں نے کہا پورا ملک کو تباہی کے دھانے پر دھکیل دیا گیا ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہم ان حالات کی طرف کیسے پہنچیں ہیں۔

کیوں 54 روپے سے چینی 110 روپے کی ہو گی۔ کیوں آٹا اتنا مہنگا ہو گیا اور کیوں اتنی زیادہ مہنگائی ہو گئی ہے۔ کیوں ترقی کرتا ہوا پاکستان آگے بڑھتا ہوا پاکستان برباد کر کے رکھ دیا گیا ہے۔

کیوں کارخانے لگنا بند ہو گئے ہیں، کیوں موٹر وے بننا بند ہو گئے ہیں، کیوں پاکستان دنیا میں تنہا رہ گیا ہے، کیوں انڈیا کو کشمیر ہڑپ کرنے کی جرات ہوئی، کیوں سعودی عرب جیسا ہمارا دوست ہم سے دور ہو گیا ہے۔

آئین اور قانون مٹھی بھر لوگوں کے ہاتھوں آڑے آ گئے ہیں۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ انھیں نواز شریف کیوں پسند نہیں؟ کیونکہ وہ ڈکٹیشن نہیں لیتا، وہ آپ کا منتخب نمائندہ ہے۔ پھر ایک لاحاصل تفتیش کے بعد فیصلہ ہوا کہ نواز شریف کو نااہل کردو۔

اسے عمر بھر کے لیے نااہل کردو۔ اس کے بھائی شہباز شریف، اس کی بیٹی مریم نواز اور مسلم لیگ کے ساتھیوں کو جیل بھیج دو۔

انھوں نے نواز شریف کو نشان عبرت بناتے بناتے ملک کو عبرت کا نشانہ بنا دیا۔

نواز شریف نے کہا کہ انھوں نے انتخابات سے قبل زبردستی لوگوں کو پی ٹی آئی میں شامل کرایا، پولنگ ایجنٹس کو باہر نکال دیا اور آر ٹی ایس بند کرکے اپنی مرضی کے نتائج جاری کرنا شروع کردیے اور ایک نااہل اور نالائق شخص کو دھانددلی سے وزیر اعظم کی کرسی پر لا بٹھایا۔

کراچی کے جلسے سے گھبرا کر انھوں نے ہوٹل کے کمرے کو توڑا جہاں مریم نواز اور کیپٹن صفدر ٹھہرے ہوئے تھے۔

نہ روایات نہ قدریں، یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ ایک طرف اعلیٰ اخلاقی قدروں کی بات کرتے ہیں لیکن اب بھی وہ اس حکومت کا حصہ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس سے میرے بیانے کو مزید تقویت دی کہ ’یہاں ریاست کے اوپر ایک اور ریاست قائم ہو چکی ہے۔‘

انھوں نے پوچھا کہ سیکٹر کمانڈر کون ہے، وہ کس کے حکم پر ایف آئی آر کٹواتا ہے، وہ کس کے حکم پر آئی جی اور ایڈیشنل آئی جی کو اغوا کراتا ہے، جس کی خبر خود وزیر اعلیٰ کو بھی نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اسی نا انصافی کے خلاف اٹھی ہے۔

’پی ڈی ایم پاک فوج کے مقدس ادارے کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنے والوں کے خلاف اٹھی ہے‘

چند لوگ اپنے گھناو¿نے مقاصد کے لیے آئین اور قانون توڑتے ہیں اور خود کو بچانے کے لیے نام فوج کا استعمال کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس سے فوج کا دور دور سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس سے بدنامی کس کی ہوتی ہے فوج کی ہوتی ہے۔

اسی لیے میں نام لے کر ان کرداروں کو ظاہر کرتا ہوں تاکہ اس کا دھبہ فوج پر نہ لگے، ملک پر یہ داغ نہ لگے۔

کارگل میں رسوائی کا فیصلہ فوج کا نہیں تھا، چند مفاد پرست جرنیلوں کا تھا۔

میرے بہادر سپائی دہائیاں دیتے رہے کہ خوراک نہیں تو ان پہاڑیوں پر اسلحہ تو بھجوائیں۔ کارگل آپریشن کے پیچھے وہی کردار تھے جنھوں نے اپنے گناو¿ں پر پردہ ڈالنے کے لیے 12 اکتوبر کو بغاوت کی اور مارشل لا نافذ کیا۔

میں ان افسران کو بھی بری الذمہ نہیں قرار دے رہا ہوں جنھوں نہ وزیر اعظم ہاو¿س کے دیوار پھلانگی۔ یہ اتنے ہی قصور وار ہیں جتنے آرڈر دینے والے۔ انہی لوگوں نے اکبر بگٹی کو شہید کرایا، انہی لوگوں کو بے نظیر بھٹو نے اپنی شہادت سے چند دن قبل اپنے قتل کا ذمہ دار قرار دیا۔

یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے 12 مئی کو کراچی میں طاقت کا استعمال کیا۔

اس کے بدلے پرویز مشریف کے اکاو¿نٹس میں اربوں روپے پڑے ہیں مگر نیب سمیت کی کی ہمت نہیں کہ تحقیقات کرائیں۔

انھوں نے کہا کہ چند کرداروں نے میری حکومت کے خلاف دھرنے دلوائے۔

اب تمام سوالوں کے جواب قمر جاوید باجوہ کو دینے ہیں، جنرل فیض حمید کو دینا ہے۔

جنرل قمر باجوہ آپ کو دھاندلی اور اس حکومت کی تمام ناکامیوں کا حساب دینا ہے۔ اس قوم کو مہنگائی اور غربت کی طرف دھکیلنے کا حساب دینا ہے۔

جنرل فیض حمید آپ کو جواب دینا ہے کہ کیوں آپ نے ایک حاضر جواب جج کے گھر جا کر دباو¿ ڈالا۔ کیوں اسے وقت سے پہلے اسے چیف جسٹس بننے کا کہا۔ کیوں آپ نے نواز شریف اور مریم نواز کو الیکشن تک جیل میں رکھنے کا کہا۔ آپ کی کون سی دو سال کی محنت ضائع ہو رہی تھی۔

آپ نے تو آئین کی پاسداری کا حلف اٹھایا تھا۔ آپ نے سیاست میں مداخلت نہ کرنے کا حلف اٹھایا تھا پھر کیوں آپ نے ایسا کیا۔

کیا آپ فیض آباد دھرنے کے ذمہ دار نہیں۔ سپریم کورٹ نے آپ کے خلاف کیا فیصلہ دیا۔ اس کے باوجود آپ کو لیفٹیننٹ جنرل کے عظیم الشان عہدے پر ترقی ملی اور آئی ایس آئی کے چیف بنے۔

آپ نے بے دھڑک سیاست میں مداخلت کی۔ اگر یہی توانائی آپ نے اپنے کام پر خرچ کی ہوتی تو ہمارے کشمیری بھائی اس مشکل میں ہی نہ ہوتے جو وہ آج ہیں۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ عمران خان ہمارا مقابلہ تمھارے ساتھ نہیں ہے۔ ہمارا مقابلہ تمھیں لانے والوں سے ہے۔ تمھیں ثاقب نثار کا این آر او نہیں بچا سکے گا۔ انھوں نے کہا تمھاری فارن فنڈنگ کیس جیل بھیجے گی۔

یہ پرویز مشرف اور چند ساتھی تھے جنھوں نے فوج کا نام استعمال کیا بلکہ بدنام کیا۔

میرے فوجی بھائیوں آئین کی تابعداری کا حلف سب سے اہم ہے۔ جہاں آئین شکنی شروع ہوتی ہے وہاں ظلم شروع ہو جاتا ہے۔ اپنے حلف کی پاسداری کیجیے۔ اپنے آپ کو متنازع ہونے سے بچائیے۔

سول سرونٹ کے نام میرا پیغام ہے کہ جس طرح سندھ کے پولیس افسران نے غیر قانونی احکامات کو ماننے سے انکار کیا اسی طرح میں سب سول سرونٹس کو گزارش کرتا ہوں کہ کسی دباو¿ میں آئے بغیر اپنا فریضہ انجام دینا چائیے۔

تیسرا پیغام میرا عوام کے نام ہے۔ میرے بہنوں اور بھائیو یہ فوج آپ کی ہے، اسے عزت دی جائے۔ مگر جہاں معاملہ آئین کی پاسداری کا آجائے تو پھر کوئی سمجھوتہ نہ کیجیے۔ کوئی فوج اپنی عوام سے نہیں لڑ سکتی۔

Share This Article
Leave a Comment