کابل میں تعلیمی ادارے پر خود کش حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 13 ہوگئی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہونے والے خود کش حملے میں کم از کم 13 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ خود کش دھماکے میں ایک تعلیمی ادارے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

وزارتِ صحت کے ترجمان سعید جامی کا کہنا ہے کہ دھماکے کے مقام سے ہلاک ہونے والے 13 افراد کی لاشیں اسپتال منتقل کی گئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دھماکے میں زخمی ہونے والے 30 افراد کو بھی ایمبولینسوں کے ذریعے مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

وزارتِ صحت کے حکام نے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا اندیشہ بھی ظاہر کیا ہے۔

دوسری طرف وزارتِ داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ حملہ خود کش تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ خود کش حملے میں ‘کوثرِ دانش’ نامی تعلیمی ادارے کو نشانہ بنایا گیا۔

رائٹرز کے مطابق طالبان کے ایک ترجمان نے اس حملے میں ملوث ہونے کی ترید کی ہے۔

امریکہ کے خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق جس علاقے میں حملہ کیا گیا ہے اس کے قریب اہل تشیع فرقے سے تعلق رکھنے والی آبادی ہے۔

وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ خود کش حملہ آور تعلیمی ادارے میں داخل ہونا چاہتا تھا۔ البتہ دروازے پر محافظ نے اسے روک لیا۔

خیال رہے کہ اس طرح کے حملوں کی ماضی میں شدت پسندتنظیم ‘داعش’ ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے۔ البتہ اس دھماکے کے بعد کسی گروہ نے دھماکے کی ذمہ داری ابھی تک قبول نہیں کی ہے۔

داعش نے 2018 میں ایک تعلیمی ادارے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اس حملے میں 34 طلبہ ہلاک ہوئے تھے۔

‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق ہفتے کو ہی صوبہ غزنی میں ایک سڑک کنارے بم دھماکے میں 9 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

حکام کے مطابق مشرقی افغانستان میں عام شہریوں سے بھری ہوئی گاڑی دھماکے کی زد میں آئی۔

صوبہ غزنی کی پولیس کے ترجمان احمد خان کا کہنا تھا کہ پہلے سڑک کنارے بم دھماکے کے بعد جائے وقوع پر جانے والے دو پولیس اہلکار سڑک کنارے بم دھماکے میں نشانہ بنے۔

ان دھماکوں کہ ذمہ داری بھی کسی گروہ نے قبول نہیں کی۔

خیال رہے کہ رواں برس فروری میں افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان قطر میں امن معاہدہ ہوا تھا۔ اس معاہدے کے تحت آئندہ برس غیر ملکی افواج نے افغانستان نے انخلا کرنا ہے۔

امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اس معاہدے کے تحت داعش کے خلاف کارروائیوں میں مدد ملے گی۔

Share This Article
Leave a Comment