پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسلم لیگ نواز کے رہنما کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف ایف آئی آر کے اندارج اور ان کی گرفتاری کے معاملے پر سکیورٹی اداروں کی جانب سے سندھ پولیس کے اعلی افسران کی توہین کرنے کا نوٹس لیں اور اس معاملے کی انکوائری کروائیں۔
کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سب سوال کر رہے ہیں کہ صبح سویرے سندھ آئی جی مشاق مہر کے گھر کا گھیراو¿ کس نے کیا اور ان کے گھر داخل ہوئے اور انھیں اپنے ساتھ کہیں لے کر گئے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل سندھ پولیس کے ایڈیشنل انسپیکٹر جنرل عمران یعقوب منہاس نے سندھ حکومت سے دو ماہ کی رخصت طلب کرتے ہوئے اپنی درخواست میں لکھا کہ کیپٹن صفدر کے خلاف ایف آئی آر کے معاملے پر نہ صرف پولیس کی اعلی کمان کی جس طرح توہین ہوئی اس سے انھیں صدمہ ہوا ہے۔
اپنی درخواست میں انھوں نے لکھا کہ اس تناو¿ والی صورتحال میں ان کے لیے ممکن نہیں ہے کہ فرائض سرانجام دیں سکیں اور اس صدمے سے نکلنے کے لیے ان کی دو ماہ کی چھٹی کی درخواست قبول کی جائے۔
بلاول کا کہنا تھا کہ پولیس فورس کی بےعزتی چیف منسٹر کی جانب سے نہیں ہوئی بلکہ کسی اور طرف سے ہوئی ہے۔ ‘آپ کی عزت کا سوال ہے تو میری عزت کا سوال ہے۔تنگ نظر اور غیر سیاسی فیصلوں کی وجہ سے پولیس افسران اور پولیس اہلکار کا مورال گرا۔’
بلاول کا کہنا تھا کہ پولیس افسران کو زیادہ حوصلہ اس وقت ملے گا جب آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی اس معاملے کی بذات خود انکوائری کریں۔
‘صوبہ اپنی تحقیقات کرے گا۔ یہ تاثر نہیں ہونا چاہیے کہ فوج کسی پارٹی کے پیچھے ہے۔ جو مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے ساتھ ہوا وہ انتہائی شرمناک ہے، اس پر میں شرمندہ ہوں اور منھ دیکھانے کے قابل نہیں رہا۔ یہ سب میرے صوبے میں کیسے ہوا۔’
انھوں نے کہا کہ پولیس کی عزت پر کوئی کمپرومائز نہیں ہو گا چاہے سامنے کتنا ہی بڑا بندہ کیوں نہ ہو۔
بلاول کا کہنا تھا کہ سب اپنے اپنے دائرے میں رہ کر کام کریں۔ پولیس کی عزت نہیں رہے گی تو وہ کام کیسے کریں گے۔ آج سندھ پولیس حوصلہ شکنی کا شکار ہے۔’
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے پاکستان فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کی تحقیقات کریں کہ وہ کون لوتے تھے جو صبی چار بجے آئی جی سندھ مشتاق مہر کو اپنے ساتھ لے گئے۔
انھوں نے کہا کہ ان اداروں کا کام نیشنل سکیورٹی کا ہونا چاہیے تھا، پیپلز پارٹی اور اس کی حکومت پولیس کے ساتھ کھڑی ہے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اس ملک کے جو حالات ہیں ان کو بہتر کرنا کسی فوج یا کسی ایک جماعت کے بس کی بات نہیں ہے۔ ‘اس معاملے میں بہت سی ریڈ لائنز کراس کی گئیں۔’
یاد رہے کہ وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کی پریس کانفرنس سے تھوڑی دیر بعد سوشل میڈیا پر ڈی آئی جی سپیشل برانچ عمران یعقوب منہاس کی چھٹی کی درخواست سامنے آئی جو سوشل میڈیا پر شیئر ہوئی تھی۔