مند سول سوسائٹی کے ترجمان نے کہا ہے کہ گزشتہ رات مند کے علاقے کہنک میں مسلح نقاب پوش ڈاکوو¿ں نے چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے فاروق نامی شخص کے گھر میں گھس کر اسلحہ کے زور پر اہلخانہ کو یرغمال بنا کر خواتین کے زیورات اور قیمتی اشیاءکو لوٹ کر فرار ہوگئے جسکی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مند میں ڈاکوو¿ں کا راج ہے ،انتظامیہ غفلت کی نیند سورہی ہے ،مند میں ڈاکو سرعام دندناتے پھر رہے ہیں مگر انتظامیہ انکے خلاف کاروائی کرنے سے گریزاں ہے اس طرح کے بڑھتے واقعات قانون کی بالا دستی اور انتظامیہ پر سوالیہ نشان ہیں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم ضلعی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ مند میں چوروں اور ڈاکوو¿ں کے خلاف جلد از جلد سخت کاروائی کی جائے اور مند میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو بہتر بنایا جائے تاکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔
واضع رہے کہ بلوچستان میں خاص کر مکران کے ان علاقے جو زیادہ سورش زدہ ہیں اور سورش کو کم کرنے کیلئے پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کی سرپرستی میں منشیات کے بڑے بڑے اڈے کھولے گئے ہیں جہاں منشیات کھلے عام فروخت ہورہی ہے اور اس کاروبار میں عورتوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ان علاقوں میں چوری و ڈکیتی اور دیگر وارداتیں روز کا معمول بن گئی ہیں۔