زیڈ یو بی طلباء لانگ مارچ: کاروان خانیوال پہنچ گیا

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی کے طلباء کا ملتان تا اسلام اباد لانگ مارچ اتوار کے روز دوسرے دن 60 کیلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے خانیوال شہر میں داخل ہوچکا ہے۔طلباء بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی میں بلوچستان کے ریزرو سیٹس پر فیسوں کے خاتمے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

ملتان میں چالیس دن تک احتجاجی کیمپ لگانے کے بعد بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل ملتان نے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ لانگ مارچ براستہ لاھور دو مراحل میں طے کی جائے گی پہلے مرحلے میں لگ بھگ 326 کیلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے پیدل مارچ لاہور پہنچے گا۔ توقع ہے کہ روزانہ 30 کیلو میٹر کی رفتار سے مارچ 20 اکتوبر کو لاہور شہر میں داخل ہوگا جہاں احتجاج رکارڈ کرنے کے بعد مارچ کے شرکاء اسلام آباد کی طرف روانہ ہوں گے۔

بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل ملتان نے اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ میڈیا کو جاری کیا ہے، جو درج ذیل ہے۔

بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی میں بلوچستان کے طلباء کے لیے مخصوص نشتوں پر اسکالر شپ مکمل طور پر بحال کی جائے اور فیس طلبی کا جو نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے اسے واپس لیا جائے۔

۔ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے طلباء کے لیے بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی اسکالرشپ کا اجراء کرکے اور مختلف شعبہ جات میں مخصوص نشستوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔

۔پنجاب کے دیگر جامعات میں بلوچستان کے طلباء کے لیے مخصوص نشستوں کے مسائل حل کیے جائیں۔

۔پنجاب یونیورسٹی لاہور،اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور،اگریکلچر یونیورسٹی فیصل آباد اور گومل یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان میں بلوچستان کے طلباء کے لیے ختم کیے گئے مخصوص نشستوں کو بحال کیا جائے۔

بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل ملتان کے انفارمیشن سیکریٹری یاسین مراد نے کہاہم نے یہ بی زیڈ یو کے مرکزی دروازے سے شروع کیا تقریبا ہم 60 کیلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے آج خانیوال پہنچے ہیں۔ راستے میں ساتھیوں کے پاؤں میں چھالے پڑ گئے، وہ بہت تھک چکے تھے۔ہمیں اب تک پولیس پروٹکشن بھی نہیں دی گئی ہے۔راستے میں جتنے ہوٹلز ہیں ہم نے وہیں پر قیام کیا اور وہیں سے کھانا کھایا۔راستہ بہت ہی کھٹن تھا لیکن مجبوری میں یہ سب کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے رابطہ کاری کے حوالے سے کیے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت وقت اور اپوزیشن میں بیٹھے ہوئے لوگ خواب خرگوش میں ہیں۔ نہ ہی انہوں نے ہم سے کوئی بات کی ہے اور نہ ہی ہمارے حق میں کوئی بات کی ہے۔نہ ہی کسی نے ہم سے ملاقات کی ہے۔دو دن ہوئے ہیں ان کے کسی نمائندے نے ہم سے رابطہ نہیں کیا، مطلب کوئی رسپانس نہیں مل رہا۔

بلوچستان کی طلباء تنظیم اور دیگر مکتبہ فکر کی طرف سے بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل کے لانگ مارچ کی بھرپور حمایت کی جارہی ہے۔گوادر میں گھٹی ڈور کی اسکول کی بچیوں نے بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی کے طلبائکے پیدل مارچ کی حمایت میں پلے کارڈ اٹھا کر ان سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

Share This Article
Leave a Comment