سندھ پولیس نے جبری لاپتہ نسیم بلوچ اور محب لغاری کی تلاش کے لیے اشتہار جاری کردیا ہے۔
نسیم بلوچ کی تلاش گمشدگی کا اشتہار محمود آباد ایسٹ کراچی کے ڈی ایس پی صادق علی رانا جب کہ محب لغاری کا اشتہار حیدر آباد پولیس کے افسران نے جاری کیا ہے۔ دونوں کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ انہیں نامعلوم افراد نے مبینہ طور پر اغواءکیا ہے۔
نسیم بلوچ کے بارے میں مشتہر ” اشتہار برائے تلاش گمشدہ “ میں لکھا گیا ہے کہ : عوام الناس کو مطلع کیا جاتا ہے ایک شخص بنام محمد نسیم ولد حاجی عبدالکریم عمر 27 سال مورخہ 2019-05-14 کو نامعلوم ملزمان اغواءکرکے لے گئےجس کے بعد اب تک لاپتا ہے۔
پولیس اشتہار کے مطابق : جس کا مقدمہ الزام نمبر56/2020 بجرم دفعہ نمبر 365/395/34 ت پ تھانہ بلوچ کالونی میں بمدعیت مسمات ھانی گل دختر محمد عارف قائم ہوا۔
پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ان کے متعلق معلومات ہونے پر انہیں اطلاع دی جائے۔

حیدر آباد پولیس افسران کی طرف سے جاری کردہ اشتہار میں محب لغاری کی تفصیلات بتاتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ 26 سالہ محب علی لغاری ولد رانجھو لغاری سکنہ مسو بھڑگڑی گاو¿ں مرید لغاری تعلقہ و ضلع حیدر آباد کو مورخہ 04/09/2020 کو بمقام گاو¿ں صاحب خان چانڈیو کا مسافر خانہ لنک روڈ وان کی وسی تعلقہ و ضلع حیدر آباد سے مبینہ طور پر اغواءکیا گیا تھا کہ تاحال لاپتہ ہے اور جس کی تلاش جاری ہے جو عدالت جناب ہائی کورٹ آف سرکٹ کورٹ حیدر آباد میں دائر کردہ پٹیشن نمبر D-950/2020 میں جاری کردہ عدالتی حکم کی تعمیل کرنے اور مبینہ مغوی کی تلاش کے لیے نوٹس ہذا جاری کیا گیا ایسا مقدمہ نمبر 139/2020 زیر دفعہ 365،147،148،14 , PPC تھانہ ہٹری حیدر آباد پر داخل کیا گیا ہے۔
8 اکتوبر 2020 کو روزنامہ ڈان میں مشتہر ان اشتہارات میں پولیس نے عوام ان کے بارے میں معلومات دینے کو کہا ہے۔
واضح رہے کہ لاپتہ نسیم بلوچ ایک طالب علم ہیں جنہیں پاکستانی خفیہ اداروں نے حراست کے بعد لاپتہ کیا ہے جب کہ محب علی لغاری پیشے کے لحاظ سے ایک وکیل ہیں۔انہیں بھی پاکستانی سیکورٹی ایجنسیوں نے گرفتاری کے بعد جبری طور پر لاپتہ کیا ہے۔
وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ نے فیس بک پر اپنے رسمی اکاو¿نٹ میں دونوں جبری لاپتا افراد کے بارے سندھ پولیس کے اشتہار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا ہے کہ : ایک قانون نافذ کرنے والا ادارہ جبری طور پر اٹھا کر لاپتا کرتا ہے، تودوسرا ادارہ اشتہار چلا رہا ہے۔

اس حوالے سے جبری لاپتا نسیم بلوچ کی منگیتر حانی گل بلوچ نے ریڈیو زرمبش سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نسیم کو پاکستانی ایجنسیوں نے گرفتار کیا ہے اور وہ ان کی تحویل میں ہیں، مجھے بھی اس کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔ میں ان کی گرفتاری کا گواہ ہوں۔ انہوں نے کہاکہ اشتہار شاید اس لیے دیا گیا ہے کہ تاکہ انہیں آئندہ کسے جھوٹے مقدمے میں گرفتار ظاہر کیا جاسکے۔لیکن اس سے ہمارے احتجاجی مظاہروں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا احتجاج کرنا ہمارا حق ہے ہم کل بھی احتجاج کررہے تھے آج بھی کر رہے ہیں اور یہ سلسلہ تمام لاپتہ افراد کی بازیابی تک جاری رہے گا۔
حانی گل بلوچ نے کہا کہ 20 اکتوبر کو جبری لاپتہ نسیم کے مقدمے کے حوالے سے پیشی ہے۔ اس کے بعد صورتحال کا جائزہ لے کر ہم اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔سندھی مسنگ پرسنز کے ساتھ احتجاجی مارچ کا جو سلسلہ ہے اسے جاری رکھا جائے گا۔