جمعہ شام4 بجے،شہدائے مزن بند لاشوں کی عدم حوالگی پر کراچی میں احتجاج ہو گا، ھانی گل بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان میں انسانی حقوق کی سرگرم کارکن ھانی گل نے شہدا کی میتوں کو لواحقین کی تحویل میں نہ دینے کے خلاف کراچی پریس کلب کے سامنے جمعے کے روز احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔

لاپتہ افراد کے حوالے سے سرگرم کارکن ھانی گل نے کل بروز جمعہ شام 4 بجے کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے کی کال دی ہے۔

ھانی گل نے اپنے بیان میں کہا ہے: بلوچستان گزشتہ 70 سالوں سے بد ترین انسانی المیہ سے دو چار ہے۔ بلوچ قوم کی مختلف طریقوں نسل کشی کی جارہی ہے اور بلوچ نوجوانوں کو بے دھڑک اغوا کیا جارہا ہے یہاں تک کہ بلوچ خواتین کو بھی پاکستانی فوج اغوا کرکے لاپتہ کرچکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستانی ریاست بلوچوں کے تمام انسانی اور اسلامی حقوق سے انکار کر رہی ہے۔ 28 ستمبر کو سیکورٹی فورسز کے ساتھ ایک لڑائی میں دو نوجوانوں کی ہلاکت ہوئی ہے اور 48 گھنٹے گزرنے کے باوجود ان کی لاشیں ان کے خاندان کے حوالے نہیں کی گئی ہیں۔ جب ان کے لواحقین لاشوں کی وصولی کے لیے تمپ آرمی کیمپ گئے تو انہیں لاشیں سپرد کرنے کی بجائے ان کے ساتھ توہین آمیز سلوگ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ لاشوں کو پاکستانی فوج نے ٹریکٹر کے ذریعے گھسیٹ کر ایک گڑھے میں دفن کیا ہے جو اسلامی اور انسانی روایت کے برخلاف ہے۔ان کے خاندان کا یہ حق ہے کہ ان کے آخری رسومات ادا کریں جب خواتین اور دیگر لوگوں نے لاشوں کو کڈھے سے نکالنے کی کوشش کی تو انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں زندہ لوگوں کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے مردوں کے ساتھ جو ہو رہا ہے اس کی سب سے بڑی مثال شہید اکبر خان بگٹی کی میت ہے جنہیں شہید کرنے کے بعد پاکستانی فوج نے ایک تابوت میں تالا لگا کر دفن کیا اور آج تک ان کے لواحقین سمیت بلوچ قوم کو نہیں پتا کہ اس تابوت میں کیا کچھ دفن کیا گیا تھا۔

Share This Article
Leave a Comment