عالمی ادارہ صحت نے کووڈ 19 کے ایک ایسے ٹیسٹ کے بارے میں آگاہ کیا ہے جو کم اور درمیانی آمدن والے ممالک کے متاثرین میں منٹوں میں کورونا کی تشخیص کرسکتا ہے۔
اس ٹیسٹ کی قیمت صرف پانچ ڈالر ہے اور یہ کم آمدن والے ممالک میں کووڈ 19 کے خلاف حکمت عملی کو بدل کر رکھ سکتا ہے۔ ان ممالک میں پہلے ہی صحت کے عملے اور لیبارٹری کی کمی ہوتی ہے۔
دواساز کمپنیوں سے معاہدوں کے بعد چھ ماہ میں 12 کروڑ ٹیسٹ بنائے جاسکیں گے۔ عالمی ادارہ صحت نے اسے بڑی پیشرفت قرار دیا ہے۔
عام ٹیسٹ کی صورت میں کورونا وائرس کی تشخیص میں کافی وقت درکار ہوتا ہے اور اس طرح کئی ممالک میں کووڈ 19 کے انسداد کی حکمت عملی کو مشکلات درپیش ہیں۔ انڈیا اور میکسیکو جیسے کچھ ممالک میں انفیکشن کی شرح اتنی زیادہ ہے کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ کم رفتار سے ٹیسٹنگ کی وجہ سے وبا چھپی رہتی ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس نئے ٹیسٹ کے ذریعے گھنٹوں کے بجائے 15 سے 30 منٹ میں کووڈ 19 کی تشخیص کی جاسکتی ہے۔
دوا ساز کمپنیوں ایبٹ اور ایس ڈی بائیو سینسر نے بِل اینڈ میلنڈا گیٹس فاو¿نڈیشن کے ساتھ مل کر 12 کروڑ ایسے ٹیسٹ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس معاہدے میں 133 ممالک شامل ہوں گے۔