سندھ سے جبری طور پر گمشدہ افراد کی بازیابی کیلئے متحرک تنظیم وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ“آج کراچی پریس کلب پر پاکستانی ایجنسیوں کے آشیرباد یافتہ انتہاپسند جماعت“سپاہِ صحابہ”(اہلسنت و الجماعت) نے“سندھی و بلوچ مسنگ پرسنز کیمپ”پر حملہ کیا ہے، حملے کے نتیجے میں کئی کارکنان و خواتین زخمی ہوئی ہیں۔”
وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ نے مزید کہا ہے کہ“پاکستانی ایجنسیاں سندھ میں فرقہ وارانہ و لسانی فسادات اور سول وار کا گھناونا جنگ چھیڑنے جا رہے ہیں۔”حملہ خفیہ اداروں کے ایماء پر کیا گیا۔
انسانی حقوق کی تنظیم نے اپنے کارکنان سے اپیل کی کہ“اشتعال بازی میں آنے کے بجائے صبر و تحمل سے کام لیں اور سندھ میں پاکستانی ریاست کی آشیرباد سے جاری مذہبی انتہاپسندی کے خلاف اپنی پرامن سیاسی جدوجہد تیز کریں اور سندھ کے شہرشہر،گاؤں گاؤں جا کر اپنی فریاد اپنی سندھی قوم کے آگے رکھیں۔ ہم مظلوم ہیں اور ایک مظلوم سندھی قوم کی حیثیت سے ہم دشمن کے حملے کا ماتم (احتجاج) ہی کر سکتے ہیں۔”
عینی شاہدین کے مطابق حملے کے دوران مذہبی جماعت کے کارکنان کے ہاتھوں میں لاٹھی اور پاکستان کے قومی جھنڈے تھے۔
ناموس صحابہ ریلی میں شریک لاٹھی بردار کارکنان نے اچانک لاپتہ افراد کی لواحقین پر تشدد شروع کردیا اور انکے ہاتھوں سے لاپتہ افراد کے تصویر چھین کر پھاڑ دیئے۔
ذرائع کے مطابق حملہ آور دیر تک مظاہرین پر تشدد کرتے رہے، سخت جملوں کا استعمال ہوا اور لاپتہ افراد کی لواحقین کو سخت دھمکیاں دی گئیں۔
اس دوران انتظامیہ کی طرف سے کسی قسم مداخلت نہیں کی گئی اور حملہ آوروں کو نہیں روکا گیا۔