مقبوضہ پاکستانی کشمیر: سنیئر صحافی تنویر احمد کی ضمانت مسترد

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

میر پور ہائی کورٹ نے عدالتی معاملے پر سیاسی فیصلہ دے کر کشمیری سنیئر جرنلسٹ،ریسرچر تنویر احمد کی ضمانت مسترد کر دی ہے۔

ہائی کورٹ نے آج تنویر احمد کی ضمانت منسوخ کرنے کی یہ وجہ بتائی ہے کہ ضمانت سے اس کی حوصلہ افزائی ہو گی اور وہ دوبارہ پاکستانی جھنڈا اتار سکتا ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق یہ فیصلہ عدالت کے شایان شان نہیں کیونکہ عدالتی فیصلے حقائق اور قانون کے مطابق ہونے چائیے۔
آزادی پسند نوجوانوں اس فیصلے پر شدید غم و غصہ پھایا جا رہا ہے،انکے مطابق قابض پاکستان مکمل طور پر ہماری ریاست پر اپنی من مانی پارلیمانی کرداروں سے کر رہا ہے،انکے مطابق آزاد کشمیر صرف نام کا آزاد ہے،ہم پاکستانی غلامی کو قبول نہیں کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ21 اگست کو دادیال کے مقبول بٹ شہید چوک سے پاکستانی پرچم اتارنے کے الزام میں گرفتار برطانوی کشمیری صحافی، محقق اور کارکن تنویر احمد کو میر پور میں آج 12 ستمبر کو ہائی کورٹ نے ضمانت سے انکار کردیا ہے۔

تنویر احمد پر پاکستان کی دفعہ 123 بی کا الزام عائد کیا گیا ہے،جو پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے کسی بھی خطے پر لاگو نہیں ہوتا ہے۔ ہائی کورٹ نے 10 ستمبر کو کیس کی سماعت کی اور فیصلہ محفوظ کرلیا جس کا اعلان آج صبح ہائی کورٹ نے کیا ہے۔ قانونی تجزیہ کاروں کے مطابق دفعہ 123 کا اطلاق جموں کشمیر کے زیر انتظام پاکستان میں نہیں ہوتا ہے۔ اس حصے کا معنی "غیر مجاز شخص کے ذریعہ پرچم ہٹانا ہے۔”

Share This Article
Leave a Comment