پارلیمانی سیکرٹری برائے اقلیتی امور بلوچستان وپاکستان پیپلز پارٹی اقلیتی امور کے مرکزی رہنما سنجے کمار پنجوانی نے ہندو برادری سبی کی دوشیزہ کے اغواءکی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کا رونما ہونا اقلیتی برادری میں عدم تحفظ پیدا کرتے ہیں جس کو ہم کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے فوکل پرسن برائے اقلیتی امور مکھی عامر چنڈال کی قیادت میں ملنے والے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔
رکن سنجے کمار پنجوانی نے کہا ہے کہ سبی سمیت بلوچستان بھر میں بسنے والے ہندو و اقلیتی برادری لاواث نہیں، سبی سے اغواءہونے والی کم سن بچی کو فوری طور پر بازیاب کرکے والدین سمیت بلوچستان میں بسنے والی اقلیتی برادری میں پائی جانے والے بے چینی ختم کی جائے ۔
قبل ازیں مکھی عامر چنڈال، مکھی عمران چنڈال نے کم سن ہند دوشیزہ کے حوالے سے تفصیل سے آگہی فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ سبی سے تعلق رکھنے والی بندیا کماری ولد سنجے کمار جو انتہائی معصوم بچی ہے جس کی عمر 14سال ہے ،پاکستان کے آئین وقانون میں کم عمر کی شادی جرم ہے جبکہ اس بچی کو زبردستی اغواءکیا گیا ۔
اس موقع پر سنجے کمار پنجوانی نے کہا کہ ایسے واقعات سبی، کوئٹہ ،کولپور، مچھ، ڈیرہ مراد جمالی سمیت سندھ بلوچستان بھر میں اقلیتی برادری عدم تحفظ کا شکار ہوچکی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ سبی سمیت بلوچستان بھر میں بسنے والی اقلیتی برادری لاوارث نہیں ،اقلیتی برادری کے تحفظ کے لئے صوبائی قومی اسمبلیوں سمیت سینٹ میں نمائندگی موجود ہے جو ہر فورم پر آواز بلند کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ بلوچستان کی صوبائی حکومتیں اغواءہونے والی معصوم بچی کو بازیاب کرکے والدین سمیت سندھ بلوچستان کی اقلیتی برادری میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ کرے۔ وفاقی حکومت ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے ٹھوس بنیادوں پر عملی قدم اٹھاتے ہوئے سبی سمیت بلوچستان میں بسنے والی اقلیتی برادری کے تحفظ کرے۔ ہم سنجے کمار کی اس مشکل گھڑی میں برابر کے شریک ہیں۔ اور دعا گو ہوں کہ ان کی معصوم بچی فوری طور پر بازیاب ہوکر گھر واپس آئے ۔
واضح رہے کہ سنجے کمار پنجوانی نے وفد کو آگہی فراہم کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ کے خلاف صوبائی اسمبلی میں آواز بلند کی گئی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز خان بگٹی نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی اور ایس ایس پی سبی کو ملزم کی گرفتاری، دوشیزہ کی جلد ازجلد بازیاب کرنے کی ہدایات بھی کی۔