اہم سائبر سکیورٹی اپ ڈیٹ کے بعد دنیا بھر میں متعدد ویب سائٹس عارضی طور پر بند

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

انٹرنیٹ کے بڑے حصے کو چلانے والی پروگرامنگ زبان پی ایچ پی دو سنگین سکیورٹی خامیوں کے انکشاف کے بعد مختلف ممالک کی حکومتوں اور سائبر سکیورٹی اداروں نے ویب سائٹس کو فوری حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔

یہ خامیاں پی ایچ پی پروگرامنگ زبان میں دریافت کی گئی ہیں، جبکہ ان کے لیے سکیورٹی اپ ڈیٹ (فکس) بدھ کی سہ پہر جاری کی گئی۔

متعدد سائبر سکیورٹی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ جو تنظیمیں بروقت حفاظتی اپ ڈیٹ لاگو نہیں کر سکتیں، انھیں عارضی طور پر اپنی ویب سائٹس بند کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ اسی تناظر میں فن لینڈ کی حکومت، ایڈنبرا سٹی کونسل اور بی بی سی نے اپنی بعض ویب سروسز عارضی طور پر آف لائن کر دی ہیں۔

یہ خامیاں مصنوعی ذہانت کی مدد سے دریافت کی گئیں۔ سائبر سکیورٹی کمپنی وِز (Wiz) کے مطابق یہ اے آئی کی جانب سے اب تک دریافت کی جانے والی ’انتہائی سنگین خامیاں‘ ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت سائبر سکیورٹی کے شعبے میں تیزی سے تبدیلی لا رہی ہے۔

فن لینڈ نے حکومتی عوامی ویب سروسز عارضی طور پر بند کر دی ہیں، جبکہ نیدرلینڈز کی سائبر سکیورٹی ایجنسی نے بھی اعلان کیا ہے کہ ان خامیوں کے باعث اس کی ویب سائٹ عارضی طور پر آف لائن کر دی گئی ہے۔

امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی (NSA) نے بھی مشورہ دیا ہے کہ جو ادارے فوری طور پر اپ ڈیٹ نہیں کر سکتے، وہ اپنے سسٹمز عارضی طور پر بند کر دیں۔

ادارے نے کہا: ’یہ خامیاں اکثر سرور کے فائل سسٹم یا ڈیٹا بیس تک براہ راست رسائی کا راستہ فراہم کر سکتی ہیں۔‘

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ وفاقی ادارے معروف AI کمپنیوں کے ساتھ مل کر اس مسئلے کے حل کو تیز کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

جاپان کی وزیرِ اعظم سانائے تاکائیچی نے بھی عوام اور اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ جانچ کریں کہ آیا ان کی عوامی ویب سائٹس پی ایچ پی پر چل رہی ہیں یا نہیں۔

آن لائن انسائیکلوپیڈیا ویکیپیڈیا چلانے والی وکیمیڈیا فاؤنڈیشن نے کہا ہے کہ وہ ان سکیورٹی خامیوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

فاؤنڈیشن کے مطابق: ’ہم نے احتیاطی تدبیر کے طور پر متعدد دیگر سسٹمز بھی عارضی طور پر بند کر دیے ہیں، جب تک انھیں محفوظ طریقے سے اپ ڈیٹ نہیں کیا جا سکتا۔‘

اسی وجہ سے بدھ کے روز بعض صارفین کو ویکیپیڈیا کے کچھ حصوں تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ایڈنبرا سٹی کونسل کی ویب سائٹ بھی متاثر ہوئی، جبکہ بی بی سی کے بعض پروگراموں، جن میں ڈاکٹر ہو اور دی ٹریٹرز شامل ہیں، کی ویب سائٹس بھی عارضی طور پر دستیاب نہیں رہیں۔

متاثرہ اداروں نے تاحال یہ تصدیق نہیں کی کہ اس کی وجہ براہ راست پی ایچ پی کی خامیاں تھیں یا نہیں۔

دوسری جانب آرٹ پلیٹ فارم ڈیویئنٹ آرٹ سمیت بعض ویب سائٹس نے صرف اتنا کہا ہے کہ وہ ’عارضی دیکھ بھال‘ کے لیے بند ہیں، تاہم اس کی وجہ نہیں بتائی گئی۔

یہ خامیاں سائبر سکیورٹی کمپنیوں کالیف اور وِز کے ماہرین نے دریافت کیں۔ یہ تحقیق اوپن اے آئی کے ’پیچ دے پلینٹ‘ پروگرام کے تحت کی گئی، جس میں ماہرین کو جدید اے آئی ٹولز فراہم کیے گئے تاکہ ویب ڈویلپمنٹ کی زبانوں میں موجود خامیوں کو تلاش اور درست کیا جا سکے۔

اوپن اے آئی نے ایک بلاگ پوسٹ میں اس انکشاف کو ’حالیہ برسوں کے سب سے اہم سکیورٹی مسائل میں سے ایک‘ قرار دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ خامیاں ایک دہائی سے زائد عرصے تک نظروں سے اوجھل رہیں، تاہم جدید آے آئی ٹولز استعمال کرنے کے چند ہفتوں کے اندر ماہرین انہیں دریافت کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

وِز کے مطابق پی ایچ پی استعمال کرنے والی ویب سائٹس کی بڑی تعداد اس مسئلے سے متاثر ہو سکتی ہے، اور کمپنی کا اندازہ ہے کہ انٹرنیٹ کا تقریباً 70 فیصد حصہ کسی نہ کسی شکل میں اس کے دائرۂ اثر میں آتا ہے۔

پی ایچ پی فاؤنڈیشن اس مسئلے کی تفصیلات اور مکمل سکیورٹی پیچ رواں ماہ کے آخر میں جاری کرنا چاہتی تھی، تاہم خامیوں کی معلومات منگل کے روز سوشل میڈیا پر لیک ہو گئیں، جس کے بعد فوری حفاظتی اقدامات کرنا ضروری ہو گیا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article