سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے ہوائی اڈے پر حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہو گئے ہیں۔
سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں چار سعودی، بنگلہ دیش کے دو شہری، اور امریکہ، اردن، فلسطین، شام، سوڈان اور مصر کا ایک، ایک شہری شامل ہے۔
کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آپریشن معطل کر دیے گئے ہیں۔
سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے حملے کا جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اتحاد نے اس حملے کا الزام حوثیوں پر عائد کرتے ہوئے اسے ’جنگی جرم‘ قرار دیا ہے۔
یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومتی افواج اور حوثیوں کے درمیان حالیہ عرصے میں لڑائی میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ حوثی ملک کے بیشتر حصے پر کنٹرول رکھتے ہیں۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے مطابق، سنیچر کے روز سعودی عرب کے مشرقی شہر دمام میں واقع کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب بھی ایک پروجیکٹائل آ کر گرا۔
یہ حملے ایک دن بعد سامنے آئے ہیں جب حکام نے کہا تھا کہ اس سے ایک روز قبل ایران کی حمایت یافتہ حوثیوں کے ہوائی اڈے پر دو حملوں میں ایک پائلٹ سمیت تین سعودی ہلاک ہو گئے تھے۔ اس سے قبل چھ اور سات اکتوبر کو دو سعودی ہوائی اڈوں پر حوثیوں کے حملوں میں مزید تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔
سنیچر کے روز جاری بیان میں سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کہا کہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت ’تشویشناک‘ ہے۔
اتھارٹی کے مطابق ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔