بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں ایئرپورٹ پر روکے جانے پر رکنِ بلوچستان اسمبلی زابد ریکی نے شدید احتجاج کرتے ہوئے پاسپورٹ پھینک دیا۔
بعدازاں بلوچستان اسمبلی اجلاس میںجے یو آئی کے رکن اسمبلی زابد ریکی نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مدینہ جانے کے لیے ایئرپورٹ پہنچا تو ایف آئی اے اہلکاروں نے روک کر دہشت گرد قرار دیا، مزید معلومات پر پتا چلا کہ ایڈیشنل سیکرٹری ہوم حمزہ شفقات نے ان کا پاسپورٹ بلاک کرایا اور انہیں ای سی ایل و پی سی ایل میں شامل کیا گیا ہے۔
زابد ریکی نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم انہوں نے کون سا گناہ کیا ہے، وہ ہمیشہ حقوق کی بات کرتے رہے ہیں، واشک جاتے ہیں تو عسکریت پسند پیچھے ہوتے ہیں اور کوئٹہ آتے ہیں تو دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے، بتایا جائے کہ ان کا کس کالعدم تنظیم سے تعلق ہے، اگر ان کے خلاف ثبوت موجود ہیں تو سامنے لائے جائیں اور حمزہ شفقات کو طلب کرکے ثبوت مانگے جائیں۔
احتجاجاً زابد ریکی نے پاسپورٹ اسمبلی فلور پر پھینک دیا۔
کٹھ پتلی وزیراعلیٰ بلوچستان نے پاسپورٹ پھینکنے کے عمل کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ رکن اسمبلی کو ایئرپورٹ پر روکے جانے پر معذرت خواہ ہیں، تاہم پاسپورٹ پھینکنے کا عمل مناسب نہیں تھا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ کو طلب کیا گیا ہے اور اس معاملے پر چیمبر میں بیٹھ کر بات کی جائے گی۔
زابد ریکی نے پاسپورٹ پھینکنے کے معاملے پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کوئی غلط ارادہ نہیں تھا۔