تربت: بلوچ شاعر استاد حیات شوکت کی یاد میں تعزیتی ریفرنس اور مشاعرہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان اکیڈمی تربت کے زیراہتمام نامور شاعر استاد حیات شوکت کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں ادیبوں، شاعروں اور ادب سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔

تعزیتی ریفرنس دو حصوں پر مشتمل تھی، پہلے حصے میں استاد حیات شوکت کی ادبی خدمات پر گفتگو کی گئی جبکہ دوسرے حصے میں مشاعرہ منعقد ہوا۔

نثری نشست میں بلوچستان اکیڈمی تربت کے چیئرمین شگر اللہ یوسف، معروف دانشور و ادیب پروفیسر غنی پرواز، مقبول انور رند، مقبول ناصر، عارف عزیز اور دیگر مقررین نے استاد حیات شوکت کی ادبی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے بلوچی زبان و ادب کے لیے ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔

مقررین نے کہا کہ استاد حیات شوکت نے اپنی شاعری اور ادبی کاوشوں کے ذریعے بلوچی زبان و ادب کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا اور اپنی منفرد فکری و شعری شناخت قائم کی۔ ان کے مطابق بلوچستان اکیڈمی تربت کے قیام میں بھی استاد حیات شوکت کا اہم کردار رہا۔

مقررین نے استاد حیات شوکت کی زندگی اور ادبی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ذاتی دفتر ’’بالاخانہ‘‘ طویل عرصے تک شعر و ادب سے وابستہ افراد کی آمد و رفت کا مرکز رہا۔ اکیڈمی کے قیام سے قبل بالاخانہ ایک ادبی مرکز کی حیثیت رکھتا تھا، جہاں مکران سمیت مختلف علاقوں سے شاعر، ادیب اور اہل قلم آتے اور ادبی مجالس منعقد ہوتی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ استاد حیات شوکت کی شاعری میں عوامی احساسات و جذبات کے ساتھ بلوچی معاشرے، ثقافت، روایات اور اجتماعی زندگی کے مختلف پہلو نمایاں ہیں۔ مقررین کے مطابق ان کی ادبی کاوشوں سے بلوچی ادب کو تقویت ملی جبکہ ان کے شاگردوں کی ایک بڑی تعداد ان کے ادبی و فکری ورثے کو آگے بڑھا رہی ہے۔

مقررین نے کہا کہ استاد حیات شوکت نے اپنی تخلیقات کے ذریعے بلوچی زبان و ادب کے فروغ و تحفظ اور نئی نسل کو اپنی زبان، ثقافت اور ادبی روایات سے جوڑنے میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے ان کی ادبی خدمات کو قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے محفوظ کرنا اور نئی نسل تک منتقل کرنا اہل قلم اور ادبی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

تعزیتی ریفرنس میں مقررین نے استاد حیات شوکت کی وفات کو بلوچی ادب کے لیے نقصان قرار دیتے ہوئے ان کے اہل خانہ سے تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر مرحوم کے لیے مغفرت، بلندی درجات اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا بھی کی گئی۔

تقریب میں اسٹیج سیکریٹری کے فرائض عابد علیم نے انجام دیے۔

ریفرنس کے دوسرے حصے میں مشاعرہ منعقد ہوا، جس میں پروفیسر غنی پرواز، ارشاد پرواز، عارف عزیز، مقبول انور، ظفر دوست، عابد علیم، صادق وفا اور دیگر شعرا نے اپنا کلام پیش کیا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article