کیچ سے 2 نوجوان جبری لاپتہ، ایک بازیاب، ڈیتھ اسکواڈ حملے میں زخمی نوجوان چل بسا

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ سے پاکستانی فوج نے 2 نوجوانوں کو جبری لاپتہ کردیا ہے جبکہ ایک جبری لاپتہ نوجوان بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا۔علاوہ ازیں ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے حملے میں زخمی نوجوان چل بسا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق کیچ سے مزید 2 بلوچ نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا ہے، جبکہ ایک سابقہ لاپتہ نوجوان بازیاب ہو کر گھر پہنچ گیا ہے۔ دوسری جانب ڈیتھ اسکواڈ کے حملے میں شدید زخمی ہونے والا 25 سالہ نوجوان 12 دن تک زندگی و موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا ہے۔

بی وائی سی کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق 17 ستمبر 2026 کو کیچ کے علاقے عمری کن، شاپک سے 18 سالہ نائی اکرام ولد سلیم کو ڈیتھ اسکواڈ نے اس کی دکان سے جبری لاپتہ کیا۔ اسی طرح 29 ستمبر 2026 کو مکسر دشت، کیچ سے 30 سالہ کسان داد شاہ کریم ولد کریم بخش کو فرنٹیئر کلوپری (ایف سی) نے اس کے گھر سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام منتقل کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق 29 ستمبر 2026 کو مکسر دشت سے لاپتہ کیے جانے والے نوجوان علی محمد کریم ولد کریم بخش کو فورسز نے اگلے ہی دن 30 ستمبر کو دشت کے علاقے میں رہا کر دیا۔

بی وائی سی کے مطابق خضدار کے علاقے گریشہ، سہر دپ میں 17 ستمبر کو ڈیتھ اسکواڈ کی جانب سے ایک گاڑی پر فائرنگ کی گئی تھی جس کے نتیجے میں عالم خان ولد داد بخش موقع پر ہی ہلاک ہو گئے تھے جبکہ ان کا 25 سالہ کسان دوست برکت عظیم ولد عظیم شدید زخمی ہوا تھا۔

برکت عظیم کو علاج کے لیے کراچی کے سول ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ 12 دنوں تک زیرِ علاج رہنے کے بعد 28 ستمبر کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ان واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی شدید پامالیوں، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات کا فوری نوٹس لیا جائے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article