ریاستی ڈیتھ اسکواڈز و فورسز ہاتھوں بلوچ نوجوانوں کی ماورائے عدالت قتل پر بی وائی سی کا شدید ردِعمل

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے 18 ستمبر 2026 کو جاری کردہ الگ الگ بیانات میں گوادر اور کیچ کے اضلاع میں عسکری فورسز، خفیہ اداروں اور ریاستی ڈیتھ اسکواڈز کے ہاتھوں بلوچ طلباء اور نوجوانوں کے جبری اغوا، تشدد اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات پر شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

احسن بلوچ (ماورائے عدالت قتل): کوہسار بازار، جیونی (گوادر) کے رہائشی اور تربت یونیورسٹی کی سائنس فیکلٹی کے 29 سالہ گرَیجویٹ احسن بلوچ ولد محمد حسن کو 22 جنوری 2026 کو رات 1:00 بجے ایم آئی (MI) اور سی ٹی ڈی (CTD) نے گھر سے جبری لاپتہ کیا۔ 8 ماہ کی شدید بلاجواز تحویل اور تشدد کے بعد 17 ستمبر 2026 کو ان کی مسخ شدہ لاش کلدان، دشت دانیچ/دانوک (گوادر) سے پھینک دی گئی۔

نادل بلوچ (ماورائے عدالت قتل): پانوان (گوادر) کے رہائشی 20 سالہ طالب علم نادل بلوچ ولد محمد نسیم کو 19 اپریل 2026 کو رات 1:30 بجے ایف سی (FC) اور ایم آئی (MI) نے ان کے گھر سے حراست میں لے کر لاپتہ کیا۔ 5 ماہ تک غیر قانونی تحویل میں رکھنے کے بعد 17 ستمبر 2026 کو نادل بلوچ کی لاش بھی کلدان، دانوک (گوادر) سے برآمد ہوئی۔

طاہر بلوچ (ٹارگٹ کلنگ): ملانت، تمپ (ضلع کیچ) سے تعلق رکھنے والے 24 سالہ نوجوان طاہر بلوچ ولد طارق کو 12 ستمبر 2026 کو ریاستی ڈیتھ اسکواڈ اور سرکاری اہلکاروں کی فائرنگ کے ایک حملے میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ واقعے میں ان کے والد طارق شدید زخمی ہوئے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں آئین اور قانون کی جگہ جبری گمشدگیوں، شدید تشدد، جعلی مقابلوں اور ڈیتھ اسکواڈز کے ذریعے ٹارگٹ کلنگ کے نظام نے لے لی ہے۔ ماؤں سے ان کے بچے چھین کر مہینوں بعد ان کی مسخ شدہ لاشیں واپس کی جا رہی ہیں۔

بی وائی سی نے قومی و بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر فوری طور پر غیر جانبدارانہ اور شفاف عالمی تحقیقات کی جائیں۔لاپتہ افراد اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں ملوث ریاستی اداروں اور ڈیتھ اسکواڈز کے اہلکاروں کا کڑا احتساب یقینی بنایا جائے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article