بلوچ آزادی پسندوں کے خلاف جھل مگسی میں قبائلی امن فورس کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ضلع جھل مگسی میں بڑھتی ہوئی بدامنی، اغوا اور نواب ذوالفقار علی مگسی کے نفور میں واقع نجی ریسٹ ہاؤس سمیت تھانوں پر حملوں کے پیش نظر نواب زادہ میر نادر علی مگسی کی قیادت میں مگسی قبیلے کا ایک بڑا گرینڈ جرگہ منعقد ہوا۔

جرگے میں کئی لوگوں نے شرکت کی، جس کے دوران علاقے میں قیامِ امن اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کے نام پر "مگسی امن فورس” کے قیام کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق نو تشکیل شدہ ‘مگسی امن فورس’ نے نفور اور دیگر پہاڑی سلسلوں میں بڑے پیمانے پر اپنے مورچے قائم کر لیے ہیں۔ اس فورس کو جدید ڈرون ٹیکنالوجی اور سنگین و جدید ہتھیاروں سے لیس کیا گیا ہے، جبکہ علاقے میں گشت اور پٹرولنگ کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے تاکہ مسلح افراد کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے اور دہشت گردی کے واقعات کو روکا جا سکے۔

دوسری جانب سیاسی و دفاعی تجزیہ کاروں اور بعض مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس قدم کے پیچھے ریاست اور انٹیلی جنس اداروں کا ہاتھ ہے، جس کا مقصد علاقے میں متحرک بلوچ آزادی پسند تنظیموں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنا ہے۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بلوچستان بھر میں سیکورٹی فورسز پر ہونے والے پے در پے مہلک حملوں اور قائم شدہ حکومتی رٹ کو درپیش چیلنجز کے بعد، ماضی کی طرح ایک بار پھر "تقسیم کرو اور حکومت کرو” (Divide and Rule) کی پالیسی کے تحت مقامی نوابوں، سرداروں اور ٹکریوں کو اگلی صفوں میں کھڑا کیا جا رہا ہے تاکہ بلوچوں کو آپس میں دست و گریبان کیا جا سکے۔

اس سے قبل بھی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فوجی سرپرستی میں کام کرنے والی بعض مسلح ملیشیاؤں کو متحرک کیا گیا ہے، جنہیں عوامی حلقوں میں "ڈیتھ اسکواڈ” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان گروہوں پر جبری گمشدگیوں، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر سماجی برائیوں میں شامل ہونے کے سنگین الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، شہروں تک آزادی پسند گروہوں کی بے خوف رسائی اور کارروائیوں کے باعث سیکورٹی اہلکاروں کے مورال پر گہرا اثر پڑا ہے، جس سے گشت میں ہچکچاہٹ، ملازمتیں چھوڑنے اور مبینہ طور پر خودکشی جیسے واقعات کی رپورٹیں سامنے آئی ہیں۔ انہی حالات سے نمٹنے اور افواج پر سے براہِ راست دباؤ کم کرنے کے لیے ایک بڑے منصوبے کے تحت مقامی قبائلی شخصیات اور سرداروں کے ذریعے مسلح فورسز کی تشکیل کو ایک نويں حکمتِ عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article