بحرہ بلوچ میں غیر قانونی فشنگ ، محکمہ فشریز کیخلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بحرہ بلوچ غیر قانونی مچھلی کے شکار کیس میں اینٹی کرپشن بلوچستان نے محکمہ فشریز کے خلاف غیر قانونی ٹرالرنگ کے کیس میں جاری تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔

باوثوق ذرائع کے مطابق سرکل آفیسر اینٹی کرپشن مکران سرکل کی سربراہی میں قائم خصوصی تحقیقاتی ٹیم مکران کی ساحلی پٹی کے اہم مقامات، جن میں جیونی، گوادر، پسنی اور اورماڑہ شامل ہیں، کا دورہ کر رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے مختلف فشریز اسٹیشنز اور متعلقہ دفاتر کا معائنہ کیا جا رہا ہے، جبکہ اہم سرکاری ریکارڈ بھی طلب کرکے اس کی باریک بینی سے جانچ پڑتال جاری ہے۔

تحقیقاتی ٹیم ساحلی علاقوں میں محکمہ فشریز کی کارکردگی، غیر قانونی ٹرالرنگ کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات، نگرانی کے نظام اور مبینہ غفلت یا ملی بھگت سے متعلق شواہد بھی اکٹھے کر رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق تحقیقات کے دوران متعلقہ حکام اور اہلکاروں سے بھی پوچھ گچھ کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ مختلف ریکارڈ اور دستیاب شواہد کا تقابلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ تحقیقات میں سامنے آنے والے شواہد کی روشنی میں ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے، جبکہ بعض افراد کی ممکنہ گرفتاریوں کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اینٹی کرپشن حکام کی جانب سے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔

یاد رہے کہ بلوچستان میں محکمہ ماہی گیری سب سے زیادہ پیسہ کمانے والی وزارتوں میں سے ایک ہے۔ 90ء کی دہائی میں جب اس وزارت کا قیام عمل میں لایا گیا تھا، تو کوئی بھی اسے قبول کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کی افادیت اور اہمیت میں اس قدر اضافہ ہوا کہ اب اس کے قلمدان کے لیے شدید اثر و رسوخ کا استعمال کیا جاتا ہے۔

حتیٰ کہ بعض ذرائع کے مطابق بلوچستان کی وزارتِ اعلیٰ کی طرح اس وزارت کو حاصل کرنے کے لیے بھی اربوں روپے کی بولیاں لگائی جاتی ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ محکمہ ماہی گیری کی وزارت اس لیے بھی انتہائی اہم اور منافع بخش سمجھی جاتی ہے کیونکہ یہاں شفافیت اور احتساب کا کوئی مؤثر نظام یا کاغذی ریکارڈ موجود نہیں ہوتا۔ غیر قانونی ماہی گیری، جسے "ٹرالنگ” کہا جاتا ہے، کے تحت بڑے بڑے غیر ملکی فشنگ ٹرالرز سمیت بلوچستان اور سندھ کے ٹرالرز کو پرچیاں (ٹوکن) جاری کی جاتی ہیں۔ جن کے پاس یہ پرچی نہیں ہوتی، انہیں سمندر میں جانے کی اجازت نہیں ملتی۔ یہ تمام لین دین سمندر کے بیچوں بیچ اور دفاتر میں انتہائی خفیہ طریقوں سے ہوتا ہے، جس کا کوئی رسمی ریکارڈ موجود نہیں ہوتا۔

انہی مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں اور کرپشن کی بدولت محکمہ ماہی گیری کے بعض افسران بشمول متعلقہ وزراء اور سیکرٹریز ارب پتی بن چکے ہیں جبکہ ماہی گیر نان ِ شبینہ کے محتاج ہوکر رہ گئے ہیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article