بلوچ مہاجرین کے معالج اور استاد، ڈاکٹر نوکاپ کا قتل ایک جنگی جرم ہے، چیئرمین بی این ایم

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے پارٹی کے دیرینہ ساتھی اور بی این ایم کی مرکزی کمیٹی کے رکن ڈاکٹر عبدالرشید عرف نوکاپ بلوچ کے قتل کو ایک قومی سانحہ قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی زیرِ انتظام بلوچستان میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے اس سینئر پارٹی رہنما، محنتی انسان، ڈاکٹر اور استاد کو پاکستانی ریاست اور فوج کے مسلح کارندوں نے مریض کا روپ دھار کر ان کی رہائش گاہ پر جا کر قتل کیا۔

ڈاکٹر نوکاپ کا قتل ایک ایسے سیاسی کارکن، معالج اور ماہرِ تعلیم کا قتل ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی بلوچ قومی آزادی کے مقصد، انسانیت کی خدمت اور علم کی روشنی پھیلانے کے لیے وقف کر دی تھی۔ ان کی موت بی این ایم، بلوچ قومی تحریک کے حامیوں اور ان بلوچ مہاجرین کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے جن کے لیے وہ امید، طبی سہولیات اور تعلیم کا ذریعہ تھے۔

شہید ڈاکٹر عبدالرشید عرف نوکاپ، کولواہ کے علاقے گنداچائی میں واجہ غلام حسین کے گھر پیدا ہوئے۔ وہ بچپن ہی سے سماجی خدمت کے جذبے سے سرشار تھے۔ جوانی میں سیاست اور سماجی خدمت دونوں ہی ان کی زندگی کا اٹوٹ حصہ بن گئے۔

کولواہ میں ان کے اپنے اور آس پاس کے دیہات میں سرکاری اسکول تو موجود تھے لیکن وہاں اساتذہ نہیں تھے۔ انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اپنے گاؤں کے لیے استاد کا انتظام کیا اور خود بھی برسوں تک قریبی گاؤں کینیچی میں بچوں کو رضاکارانہ طور پر تعلیم دیتے رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، طبی تعلیم مکمل کرنے کے بعد، انہوں نے علاقے کے لوگوں کو مفت طبی سہولیات بھی فراہم کیں۔ وہ کولواہ کے علاقے میں پارٹی کے ابتدائی اراکین میں شامل تھے۔

یونٹ کی سطح پر کام کرنے کے بعد، وہ 2010 میں گشکور زون کے نائب صدر اور 2012 میں صدر بنے۔ اسی سال نئے زونز کے قیام کے بعد، وہ گنداچائی زون کے صدر منتخب ہوئے۔ 2022 میں، پارٹی کے مرکزی کونسل کے اجلاس کے دوران وہ بی این ایم کی مرکزی کمیٹی کے رکن منتخب ہوئے۔

ڈاکٹر نوکاپ بلوچ نیشنل موومنٹ کے ایک دیرینہ، نظریاتی اور انتہائی مخلص ساتھی تھے۔ وہ پارٹی کے پروگرام اور قومی آزادی کے مقصد کے ساتھ غیر متزلزل وابستگی پر قائم رہے اور ہر مشکل دور میں ثابت قدمی کے ساتھ اپنی تنظیمی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔

انہوں نے اپنے سیاسی اور تنظیمی سفر کا آغاز نچلی سطح سے کیا اور اپنی صلاحیت، دیانت داری، سخت محنت اور نظریاتی استقامت کے بل بوتے پر ذمہ داری کے مختلف عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ 2022 کے مرکزی کونسل اجلاس میں وہ بی این ایم (BNM) کی مرکزی کمیٹی کے رکن منتخب ہوئے؛ وہ اپنی شہادت تک اس عہدے پر فائز رہے اور ساتھ ہی اپنی قومی و تنظیمی ذمہ داریاں بھی سرانجام دیتے رہے۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ کولواہ میں ڈاکٹر نوکاپ کی فعال سیاسی سرگرمیوں اور عوامی کردار کی وجہ سے پاکستانی فوج نے بارہا انہیں انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا۔ ان کا گھر بلڈوز کر دیا گیا، ان کی املاک لوٹ لی گئیں اور انہیں قتل کرنے کی بار بار کوششیں کی گئیں، اگرچہ وہ ان حملوں میں محفوظ رہے۔ گھر کی تباہی اور علاقے میں پھیلی ہوئی عدم تحفظ کی فضا نے بالآخر انہیں مغربی بلوچستان ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا۔

تاہم، جبری نقل مکانی، مسلسل تعاقب اور ذاتی نقصانات نہ تو ان کے عزم کو توڑ سکے اور نہ ہی انہیں قومی جدوجہد اور عوام کی خدمت کے عزم سے دور کر سکے۔

چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ مغربی بلوچستان پہنچنے کے بعد ڈاکٹر نوکاپ نے اپنی خدمات کے مرکز کے طور پر شہروں کے بجائے دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں کا انتخاب کیا، جہاں جنگ اور ریاستی جبر سے متاثرہ بلوچ مہاجرین انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے تھے۔

انہوں نے ان مہاجرین اور مقامی باشندوں کو مفت طبی علاج فراہم کیا اور ضرورت مند مریضوں کی ہر ممکن طبی معاونت کی۔ ڈاکٹر نوکاپ نہ صرف ایک معالج تھے جو لوگوں کے زخموں کا مداوا کرتے تھے بلکہ ایک ایسے معلم بھی تھے جو علم کی روشنی پھیلاتے تھے۔ انہوں نے مہاجر اور مقامی بچوں کو مفت تعلیم دینا شروع کی اور محرومی کے اندھیروں میں طب اور تعلیم کے دو چراغ روشن کیے۔

اپنا گھر کھو دینے کے باوجود وہ بے گھر افراد کے لیے سہارا بنے اور کبھی بھی اپنے ذاتی دکھ کو دوسروں کی خدمت کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا۔

بلوچ نیشنل موومنٹ ڈاکٹر نوکاپ کی قومی، تنظیمی، طبی اور تعلیمی خدمات کو ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ یاد رکھے گی۔ ان کا قتل محض کسی فرد کی آواز دبانے کا واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ بلوچ معاشرے کو اس کے باصلاحیت اور مخلص سیاسی کارکنوں، معالجین، اساتذہ اور انسانیت دوست شخصیات سے محروم کرنے کی ایک منظم پالیسی کا تسلسل ہے۔

بی این ایم (BNM) بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور ذمہ دار عالمی طاقتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ڈاکٹر نوکاپ کے قتل، سرحد پار بلوچ سیاسی کارکنوں کے تعاقب اور ان کے خلاف کی جانے والی منظم کارروائیوں کا سنجیدہ نوٹس لیں۔

ڈاکٹر نوکاپ کا عزم، کردار اور بے لوث خدمت پارٹی کارکنوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہیں گے، اور ان کا مشن بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد میں زندہ رہے گا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article