کردار کشی سیاست کا وہ ہتھیار ہے جسے عموماً وہ لوگ استعمال کرتے ہیں جن کے پاس اپنے کردار کے اظہار کے لیے کوئی مضبوط دلیل نہیں ہوتی۔ جس شخص کے پاس اپنی قابلیت، اپنی کارکردگی اور اپنے کردار کی بنیاد پر بات کرنے کو کچھ نہ ہو، وہ اکثر دوسرے کے کردار پر حملہ شروع کر دیتا ہے۔ کیونکہ کسی انسان کو گرانے کا سب سے آسان راستہ یہ ہے کہ اس کے کام، فکر اور کردار کا جواب دینے کے بجائے اس کی ذات کو نشانہ بنایا جائے۔
لیکن سیاسی جدوجہد میں یہ معمولی بات نہیں۔ کردار کشی محض دو افراد کے درمیان اختلاف نہیں بلکہ ایک ایسی بیماری ہے جو آہستہ آہستہ پورے سیاسی ماحول کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔
کسی انسان میں کمزوریاں ہوسکتی ہیں۔ کوئی غلطی کرسکتا ہے۔ کوئی فیصلہ غلط ہوسکتا ہے۔ کوئی شخص اپنے ذاتی یا سیاسی رویے میں ایسی بات کرسکتا ہے جس پر سوال اٹھنا چاہیے۔ لیکن غلطی اور کردار کشی کے درمیان ایک بنیادی فرق ہے، غلطی کی اصلاح مقصد ہو تو تنقید سیاست ہے، اور کسی کو ذلیل یا ختم کرنا مقصد ہو تو وہ کردار کشی ہے۔
اگر ہمیں اپنے کسی ساتھی میں کوئی کمزوری نظر آتی ہے تو ہمارا پہلا فرض یہ نہیں کہ ہم اسے لوگوں کے درمیان موضوعِ گفتگو بنائیں۔ ہمارا پہلا فرض یہ ہے کہ ہم اس کے پاس جائیں، اس سے اکیلے میں بات کریں، دوستانہ ماحول میں اپنی بات رکھیں اور اسے سمجھائیں کہ اس کے فلاں عمل سے فلاں نقصان پیدا ہورہا ہے۔
شاید وہ ہماری بات مان لے۔ شاید اسے اپنی غلطی کا احساس ہوجائے۔ شاید وہ خود کو بدل لے۔ اور اگر وہ نہ بھی بدلے تو کم از کم ہم نے سیاسی اور اخلاقی ذمہ داری پوری کردی۔
مگر افسوس کہ اکثر ہم اس راستے کو اختیار نہیں کرتے۔ہم کسی ساتھی کی کمزوری دیکھتے ہیں اور اسے اصلاح کا موقع دینے کے بجائے اسے مجلسوں کا موضوع بنا دیتے ہیں۔ جہاں گفتگو کا کوئی موضوع نہ ہو، وہاں بھی اس شخص کی ذات پر گفتگو شروع ہوجاتی ہے۔ ایک بات دوسری بات کو جنم دیتی ہے،حقیقت میں مبالغہ شامل ہوتا ہے،مبالغے میں الزام شامل ہوجاتا ہے اور آخرکار ایک انسان کی پوری شخصیت چند سنی سنائی باتوں میں قید کردی جاتی ہے۔
یہ سیاست نہیں۔یہ سیاسی کمزوری ہے۔اور بعض اوقات کردار کشی اس لیے بھی شروع ہوتی ہے کہ کسی شخص کی قابلیت، مقبولیت، اثر یا عہدہ کسی دوسرے کے لیے خوف بن جاتا ہے۔ جب کوئی شخص براہِ راست مقابلہ کرنے کی اخلاقی اور سیاسی صلاحیت نہیں رکھتا تو وہ پیچھے سے حملہ کرتا ہے۔ سامنے کھڑے ہوکر دلیل دینا مشکل ہوتا ہے، اس لیے کردار پر حملہ آسان معلوم ہوتا ہے۔
مگر جو شخص آج کسی دوسرے کے کردار کو نشانہ بنا رہا ہے، اسے یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ سیاسی زندگی میں کردار کشی کا کلہاڑا آخرکار اسی درخت کی جڑیں بھی کاٹتا ہے جس کے سائے میں وہ خود کھڑا ہے۔
کردار کشی کسی ایک شخص کو نہیں مارتی، اعتماد کو مارتی ہے۔اور جس سیاسی تنظیم میں اعتماد ختم ہوجائے، وہاں تنظیم باقی رہ سکتی ہے، مگر تحریک کی روح باقی نہیں رہتی۔
یہاں ذمہ داران کا کردار سب سے زیادہ اہم ہوجاتا ہے۔اگر کسی ذمہ دار کے سامنے کوئی شخص دوسرے ساتھی کی کردار کشی کرتا ہے تو ذمہ دار کا فرض یہ نہیں کہ وہ خاموشی سے سنتا رہے، مسکرائے، بات کو آگے بڑھائے یا خود بھی اس گفتگو کا حصہ بن جائے۔ اسے فوراً اس شخص کو روکنا چاہیے اور کہنا چاہیے،اگر تمہیں اس ساتھی سے کوئی شکایت ہے تو اس کے سامنے کرو۔ اگر اس کی کوئی غلطی ہے تو دلیل کے ساتھ بتاؤ۔ اگر اس میں کوئی کمزوری ہے تو اسے سمجھاؤ۔ اور اگر معاملہ اتنا سنجیدہ ہے کہ تنظیمی سطح پر کارروائی ضروری ہے تو اسے ذمہ دار فورم پر لاؤ۔
مگر کسی انسان کی غیر موجودگی میں اس کے کردار کا فیصلہ کرنا نہ انصاف ہے، نہ سیاست، نہ تنظیمی اخلاق۔
ذمہ داران اگر کردار کشی کرنے والے شخص کے ساتھ بیٹھ کر اسی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہیں تو وہ بظاہر ایک فرد کے خلاف بات سن رہے ہوتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ اپنی ہی تنظیم کے خلاف ایک ماحول پیدا کررہے ہوتے ہیں۔
آج ایک شخص نشانہ بنتا ہے، کل دوسرا ہوگا، پھر تیسرا،اور ایک دن ایسا آئے گا کہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے کے بجائے ایک دوسرے سے بچنے لگیں گے۔یہی وہ مقام ہے جہاں تنظیمیں باہر سے نہیں، اندر سے ٹوٹتی ہیں۔
سیاسی تنظیم میں اختلاف جرم نہیں۔ اختلاف تو زندگی کی علامت ہے۔ جہاں انسان سوچتے ہیں وہاں اختلاف پیدا ہوتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اختلاف کو کس طریقے سے سنبھالتے ہیں۔کیا ہم اختلاف کو دلیل میں تبدیل کرتے ہیں؟یا الزام میں؟۔
کیا ہم غلطی کو اصلاح کا موقع بناتے ہیں؟یا اسے کسی انسان کو گرانے کا ہتھیار بنا دیتے ہیں؟۔
کیا ہم ساتھی کی کمزوری دیکھ کر اس کا ہاتھ پکڑتے ہیں؟یا اس کی کمزوری کو اپنی سیاست کی سیڑھی بناتے ہیں؟۔
ایک باشعور سیاسی کارکن کو یہ فرق سمجھنا ہوگا کہ احتساب اور کردار کشی ایک چیز نہیں۔احتساب میں ثبوت ہوتا ہے، کردار کشی میں افواہ۔
احتساب میں اصلاح کا مقصد ہوتا ہے، کردار کشی میں تحقیر کا۔احتساب سامنے ہوتا ہے، کردار کشی اکثر پیٹھ پیچھے ہوتی ہے۔احتساب ادارے کو مضبوط کرتا ہے، کردار کشی ادارے کے اندر بداعتمادی پیدا کرتی ہے۔
اگر کسی شخص سے واقعی کوئی غلطی سرزد ہوئی ہے تو اسے بچانا بھی درست نہیں۔ سیاسی تنظیمیں کسی فرد کی ذاتی جاگیر نہیں ہوتیں۔ غلطی پر سوال ہونا چاہیے، احتساب ہونا چاہیے اور ضرورت پڑے تو مناسب کارروائی بھی ہونی چاہیے۔ لیکن یہ سب اصول، ثبوت، انصاف اور مناسب فورم کے ذریعے ہونا چاہیے، نہ کہ محفلوں، افواہوں اور ذاتی دشمنیوں کے ذریعے۔کسی کی غلطی کو چھپانا بھی غلط ہے، مگر کسی کی غلطی کو اس کی پوری شخصیت بنا دینا اس سے بھی بڑا ظلم ہے۔
انسان اپنی ایک غلطی سے بڑا ہوتا ہے۔اس کی پوری زندگی کو ایک غلطی میں تبدیل کردینا انصاف نہیں۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ بعض اوقات انسان کی اصلاح کے لیے ایک خاموش گفتگو وہ کام کر دیتی ہے جو سو تقریریں نہیں کرسکتیں۔کسی ساتھی کو تنہائی میں یہ کہنا کہ ”سنگت، تم سے یہاں غلطی ہوئی ہے، اسے درست کرو” شاید اس کی زندگی بدل دے۔ لیکن یہی بات دس لوگوں کے سامنے کہہ کر اسے شرمندہ کرنا شاید اسے دفاعی بنا دے، ضد میں مبتلا کردے اور اصلاح کے دروازے بند کردے۔
اس لیے سیاسی تربیت کا پہلا اصول ہونا چاہیے،انسان کو اس کی غلطی سے الگ دیکھو۔
غلطی کو غلط کہو، مگر انسان کو غلطی نہ بنا دو۔اور ذمہ داران کے لیے اس سے بھی بڑا اصول ہونا چاہیے، جو شخص دوسرے کی کردار کشی لے کر آپ کے پاس آئے، پہلے اس کی بات نہیں، اس کے طریقۂ کار کو پرکھیں۔
اس سے کہیں، اگر تمہارے پاس شکایت ہے تو ہم سنیں گے، اگر ثبوت ہے تو دیکھیں گے، اگر اصلاح کا مسئلہ ہے تو حل کریں گے۔ لیکن اگر تم صرف کسی کی ذات پر حملہ کرنے آئے ہو تو ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے۔کیونکہ ایک ذمہ دار کا کام ہر شکایت سننا نہیں، بلکہ ہر شکایت کو درست جگہ پہنچانا ہے۔
سیاسی جدوجہد میں سب سے خطرناک دشمن ہمیشہ باہر کھڑا شخص نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی وہ رویہ اندر پیدا ہوجاتا ہے جو ساتھی کو ساتھی نہیں، رقیب سمجھنے لگتا ہے۔
جب عہدہ مقصد بن جائے تو ساتھی خطرہ دکھائی دیتا ہے۔جب ذاتی مفاد مقصد بن جائے تو قابلیت دشمن لگتی ہے۔اور جب دلیل ختم ہوجائے تو کردار کشی شروع ہوجاتی ہے۔
اس لیے ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم ایسی سیاست چاہتے ہیں جس میں انسان اپنے کردار، قربانی، قابلیت اور عمل سے آگے بڑھے، یا ایسی سیاست جس میں کسی کو گرانے کے لیے اس کی ذات پر حملہ کرنا کافی سمجھا جائے۔
اگر ہم پہلی سیاست چاہتے ہیں تو ہمیں کردار کشی کے خلاف صرف تقریر نہیں، تنظیمی اخلاق بنانا ہوگا۔
شکایت ہو تو متعلقہ شخص سے بات ہوگی۔الزام ہو تو ثبوت مانگا جائے گا۔غلطی ہو تو اصلاح کی کوشش ہوگی۔سنگین معاملہ ہو تو ذمہ دار فورم موجود ہوگا۔اور کسی کی غیر موجودگی میں اس کی ذات کو تماشہ بنانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
کیونکہ ایک سیاسی تنظیم کی اصل طاقت اس کے نعروں میں نہیں، اس کے اندرونی اخلاق میں ہوتی ہے۔جو تنظیم اپنے لوگوں کی عزت کرنا سیکھ لیتی ہے، وہ اختلاف کے باوجود متحد رہ سکتی ہے۔اور جو تنظیم اپنے ہی لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف کردار کشی کی اجازت دے دیتی ہے، اسے دشمن سے پہلے اپنے اندر کے زہر کا علاج کرنا پڑتا ہے۔
کسی انسان کو گرانے کے لیے اس کے کردار پر پتھر پھینکنا آسان ہے، مشکل یہ ہے کہ اس کے سامنے کھڑے ہوکر دلیل سے اپنی بات ثابت کی جائے۔کردار کشی بزدل سیاست کا مختصر راستہ ہے۔اصلاح، احتساب اور مکالمہ مشکل راستے ہیں۔لیکن تاریخ ہمیشہ مشکل راستے اختیار کرنے والوں کو یاد رکھتی ہے، شور مچانے والوں کو نہیں۔
اس لیے اگر ہمیں اپنے ساتھی میں کوئی کمزوری نظر آئے تو اس کی پیٹھ کے پیچھے بات کرنے سے پہلے اس کے دروازے پر دستک دیں۔شاید وہ شخص دشمن نہیں، صرف ایک ایسا ساتھی ہو جسے کسی مخلص گفتگو کی ضرورت ہے۔اور اگر ہم نے اس کے بجائے اس کی کردار کشی کا راستہ اختیار کیا، تو ممکن ہے ہم اسے نہ گرا سکیں، مگر اپنی سیاست کے اخلاقی قد کو ضرور گرا دینگے۔
سیاسی جدوجہد میں اس سے بڑی شکست اور کیا ہوگی کہ دشمن سے لڑتے لڑتے انسان اپنے ہی ساتھیوں کا کردار تراشنے لگے؟۔