پاکستان سپریم کورٹ نے ایک اہم پیشرفت کے تحت انسانی حقوق کی معروف وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر وکیل ہادی علی چٹھہ کی 17، 17 سال قید کی سزاؤں کو معطل کرتے ہوئے ان کی ضمانت پر رہائی کا حکم جاری کر دیا ہے۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پچھلے 8 ماہ سے اڈیالہ جیل میں قید تھے۔ ان پر محض ٹویٹس کی بنیاد پر ایک متنازع اور تیز ترین ٹرائل (Sham Trial) چلا کر سنگین سزائیں اور کروڑوں روپے جرمانے عائد کیے گئے تھے۔
سپریم کورٹ میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک طویل اور تفصیلی سماعت ہوئی جس کے دوران ججوں نے قانونی نکات کا جائزہ لیا اور بالآخر دونوں وکلاء کی سزا معطل کر کے ضمانت پر رہائی کے روبکار جاری کرنے کے احکامات دیے۔
فیصل صدیقی (سینئر کونسل) نے فیصلے پر شکرانے کے کلمات ادا کیے اور جذبات پر قابو نہ رکھتے ہوئے کہا کہ سچائی اور مظلوموں کے لیے کی جانے والی مقاومت کبھی ضائع نہیں ہوتی۔
سابق وفاقی وزیر اور ایمان مزاری کی والدہ ڈاکٹر شیریں مزاری نے آبدیدہ ہو کر سپریم کورٹ، وکلاء کی ٹیم اور سول سوسائٹی کے ارکان کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کے بچوں کو 8 ماہ تک بلاوجہ اور ناجائز قید میں رکھا گیا، لیکن بالآخر انصاف کی فتح ہوئی ہے۔