بلوچستان کے ضلع کچھی ،بھاگ ناڑی کے علاقے گوٹھ مٹھل آباد میں نامعلوم مسلح افراد نے بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیر اور رکنِ اسمبلی عاصم کرد گیلو کے زیرِ سرپرستی قائم ایک نجی ڈیتھ اسکواڈ کے ٹھکانے پر حملہ کر کے اسے نذرِ آتش کر دیا، جبکہ وہاں موجود ایک کارندے کو حراست میں لے کر اپنے ساتھ لے گئے۔
ابتدائی طور پر پولیس انتظامیہ کی جانب سے اس عمارت کو گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول اور کمیونٹی ہال قرار دیا گیا تھا، تاہم مقامی ذرائع نے سخت وضاحتی بنیادوں پر ان دعوؤں کی تردید کی ہے۔
علاقائی ذرائع اور مقامی شہریوں کے مطابق یہ کوئی تعلیمی ادارہ یا کمیونٹی ہال نہیں ہے، بلکہ حقیقت میں عاصم کرد گیلو کا ایک باقاعدہ ڈیتھ اسکواڈ کا ٹھکانہ ہے، جہاں سے عسکری و ریاستی سرپرستی میں غیر قانونی سرگرمیاں چلاتے ہوئے شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
عوامی ردِعمل، تحقیر اور سچائی کو چھپانے کے لیے اس ٹھکانے پر اسکول اور کمیونٹی ہال کا بورڈ سجا کر اسے ایک عوامی عمارت کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے تاکہ عام لوگوں اور میڈیا کو گمراہ کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے اس ٹھکانے کو گھیرے میں لے کر مکمل طور پر جلا کر خاکستر کر دیا۔ اس کارروائی کے دوران ٹھکانے میں موجود جوگی بھنڈ نامی شخص کو مسلح افراد نے گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا، جو وہاں ڈیتھ اسکواڈ کی سرگرمیوں میں ملوث بتایا جاتا ہے۔
واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے، جبکہ کسی بھی تنظیم نے تاحال اس کارروائی کی باضابطہ ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔