بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں قومی شاہراہ پر پاکستانی فورسز کے قافلے پر ہونے والے مہلک حملے کی تازہ ترین تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جن کے مطابق فائرنگ اور دھماکے کے نتیجے میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق لسبیلہ کے علاقے کشاری میں ’15 فرنٹیر فورس’ (FF) کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ دھماکے کے فوراً بعد فورسز کی ایک گاڑی میں آگ لگ گئی اور وہ مکمل طور پر جل کر راکھ ہو گئی۔
حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت نائیک/سپاہی اصغر (15 فرنٹیر فورس)، سپاہی ذیشان (15 فرنٹیر فورس)، شمریز (سویلین ڈرائیور) اور عاشق (100 لیویز ایگزیکٹو بٹالین)کے ناموں سے ہوگئی ہے ۔جبکہ شدیدزخمیوں میں نائیک فضل قادر (15 FF) ،لانس نائیک منور علی (15 FF)، سپاہی صابر (15 FF)، سپاہی ناصر (15 FF)، سپاہی ندیم (100 LEB)، سویلین ڈرائیور معشوق علی (100 LEB) اور ریٹائرڈ حوالدار دلشاد (100 LEB) شامل ہیں۔
اطلاعات کے مطابق تمام ہلاک شدگان کی لاشوں اور زخمیوں کو ابتدائی طور پر بیلہ کیمپ منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں سے شدید زخمیوں کو مزید طبی امداد کے لیے کراچی منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔
واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کوئٹہ-کراچی قومی شاہراہ (N-25) کو ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ اس کارروائی کے حوالے سے بلوچ مسلح تنظیم ‘بلوچ لبریشن آرمی’ (BLA) کے ترجمان جیئند بلوچ نے پہلے ہی ایک جاری کردہ بیان میں حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے ‘فتح اسکواڈ’ نے لسبیلہ کے علاقے والپٹ میں فورسز کے قافلے کو نشانہ بنایا جس میں درجنوں اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔