پاکستانی صحافی بلال غوری جبری لاپتہ، این سی سی آئی اے کی گرفتاری کی تصدیق

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

پاکستان میں صحافی بلال غوری کی جبری گمشدگی کی اطلاعات اور پولیس اسٹیشن میں درخواست دینے کے بعد نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے تصدیق کی ہے کہ صحافی بلال غوری کو پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے گرفتار کیا گیا ہے۔

این سی سی آئی کی جانب سے بلال غوری کے خلاف پیکا ترمیمی ایکٹ کی دفعہ 20 اور 26 اے کے تحت چھ ستمبر کو مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ بلال غوری نے پانچ ستمبر کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور یو ٹیوب چینل پر نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے نیشنل کوآرڈینیٹر کی تعیناتی پر غلط بیانیہ گھڑ کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ ملزم کی جانب سے حقائق کے برعکس اور تصدیق کیے بغیر غلط معلومات کی تشہیر کی گئی جس سے عوام میں بے چینی اور ریاستی اداروں پر اُن کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی گئی۔

صحافی اور کالم نگار بلال غوری کے اسلام آباد کے سیکٹر ای 11 میں واقع گھر سے لاپتہ ہونے کے بعد ان کے اہلِ خانہ نے پولیس کو گمشدگی کی درخواست دی تھی۔

اہلِ خانہ کے مطابق تاحال مقدمہ درج نہیں کیا گیا، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ بلال غوری کی گمشدگی کی درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

بلال غوری کی اہلیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘وہ اپنا ہفتہ وار کالم لکھنے اور وی لاگ شوٹ کرنے کے لیے گھر کی نچلی منزل پر موجود تھے، تاہم رات بھر اوپر نہ آنے پر انھیں تشویش ہوئی۔ ان کے مطابق جب وہ نیچے جا کر دیکھنے گئیں تو بلال غوری گھر میں موجود نہیں تھے۔’

ان کی اہلیہ نے بتایا کہ ‘گزشتہ چند روز سے ان کی طبیعت بھی ناساز تھی، مگر ان کا یوں گھر سے اچانک لاپتہ ہو جانا انتہائی پریشان کن ہے۔’

انھوں نے کہا کہ ان کے بھائی نے پولیس میں بلال غوری کے لاپتہ ہونے کی درخواست دی ہے، تاہم ‘اب تک پولیس کی جانب سے نہ تو ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور نہ ہی اس معاملے میں تحقیقات کا آغاز کیا گیا ہے۔’

تاہم تھانہ شالیمار کے سب انسپکٹر نعمان شفیق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس کو بلال غوری کے لاپتہ ہونے کی درخواست موصول ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق ‘ابھی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے، لیکن ابتدائی طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔’

بلال غوری کی اہلیہ کے بھائی عبدلواسع نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں واقعے کا علم ہوتے ہی انھوں نے پولیس کی ہیلپ لائن 15 پر فون کرکے اپنے بہنوئی کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی اور بعدازاں اتوار کی صبح مقامی شالیمار پولیس سٹیشن جا کر تحریری درخواست جمع کرائی۔

عبدالواسع کے مطابق ‘جب مجھے اس بارے میں علم ہوا تو میں نے فوراً پولیس کو 15 پر فون کرکے اپنے بہنوئی کے لاپتہ ہونے کے واقعے کی رپورٹ کی اور پھر اتوار کی صبح مقامی شالیمار پولیس سٹیشن میں جا کر بلال غوری کے لاپتہ ہونے کی درخواست دی۔’

بلال غوری کے لاپتہ ہونے کی خبر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی صحافیوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

بلال غوری اس سے قبل بھی رواں برس فروری میں اس وقت خبروں میں آئے تھے جب انھیں بنگلہ دیش کے عام انتخابات کی کوریج کے لیے ڈھاکہ روانہ ہوتے ہوئے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امیگریشن حکام نے حراست میں لے لیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل ہونے کے باعث انھیں سفر سے روکا گیا تھا۔ بعدازاں انھیں رہا کر دیا گیا تھا۔

بلال غوری اس سے قبل قانونی کارروائی کا بھی سامنا کر چکے ہیں۔ جون 2021 میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر نے انھیں یوٹیوب پر مبینہ ہتکِ عزت کے معاملے میں طلب کیا تھا، تاہم بعد میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان کے خلاف جاری نوٹس معطل کر دیے تھے۔

بلال غوری کی موجودہ گمشدگی کے حوالے سے پولیس کی ابتدائی تحقیقات جاری ہیں جبکہ ان کے اہلِ خانہ ان کی خیریت اور موجودگی کے بارے میں معلومات کے منتظر ہیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article