مستونگ سے مزید، سڑک کنارے 5 افراد کی لاشیں برآمد

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر دتو موڑ کے قریب سے مزید 5 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جنہیں نامعلوم افراد کی جانب سے سڑک کنارے پھینکا گیا ہے۔ تاہم، گھنٹوں گزر جانے کے باوجود ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے ایمبولینس فراہم نہ کرنے کے باعث لاشیں کھلے آسمان تلے پڑی رہیں۔

اس سے قبل ضلع مستونگ میں ڈپٹی کمشنر ہاؤس کے قریب قومی شاہراہ کے ساتھ نالے سے تین افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق یہ لاشیں شہید نواب غوث بخش رئیسانی میموریل ہسپتال سے محض ایک کلومیٹر کے فاصلے پر برآمد ہوئیں۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی لوگ اور سیکیورٹی اہلکار موقع پر پہنچ گئے، تاہم لاشوں کو تحویل میں لے کر ہسپتال منتقل کرنے کا عمل گھنٹوں التوا کا شکار رہا۔

بتایا جا رہا ہے کہ ہسپتال انتظامیہ اور سی ای او نے سیکیورٹی خدشات کا بہانہ بنا کر ریسکیو ٹیمیں اور ایمبولینسز بھیجنے سے صاف انکار کر دیا، جس کے نتیجے میں انسانی میتوں کی حرمت پامال ہوتی رہی۔

سیکیورٹی فورسز اور عام لوگوں کی موجودگی کے باوجود ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے ایمبولینس فراہم نہ کرنے پر علاقے میں شدید بے چینی اور اشتعال پھیل گیا ہے۔

مقامی شہریوں نے شہید نواب غوث بخش رئیسانی میموریل ہسپتال کے سی ای او اور اعلیٰ حکام کی کارکردگی اور غیر ذمہ دارانہ رویے پر شدید سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی جان کے احترام اور میت کی حرمت کو یقینی بنانا ہسپتال انتظامیہ کی اولیں ذمہ داری تھی۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر لاشوں کو ہسپتال منتقل کر کے ان کی شناختی کارروائی مکمل کی جائے اور اس مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرنے والے ذمہ داروں کے خلاف قانونی اور انتظامی کارروائی کی جائے۔

مستونگ سے ملنے والی تینوں لاشوں کے بارے میں بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ پہلے سے لاپتہ کیے گئے بلوچ نوجوانوں کی ہو سکتی ہیں، کیونکہ آزادی پسند مسلح تنظیمیں فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں مارے جانے والے اپنے اراکین کی تفصیلات فوری طور پر اپنے باضابطہ ذرائع ابلاغ پر جاری کر دیتی ہیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article