جبری گمشدگیوں کے متاثرین کے عالمی دن کی مناسبت سے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے پُرامن احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں جبری لاپتہ افراد کے لواحقین سمیت مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
مظاہرے سے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ، جبری لاپتہ افراد جہانزیب محمد حسنی، سدیس لانگو، بیبرگ قمبرانی، محمود علی لانگو، نعمت اللہ بلوچ، محمد ریاض ساتکزئی، علی اصغر اور مٹھا خان مری کے لواحقین جبکہ کمیونسٹ پارٹی کے رہنما کریم پرہاد نے خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ احتجاج کا مقصد جبری گمشدگیوں کے متاثرین اور ان کے خاندانوں کے کرب و اذیت کو حکمرانوں اور انصاف کی فراہمی کے لیے قائم اداروں کے سامنے اجاگر کرنا ہے تاکہ جبری گمشدگیوں کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
نصراللہ بلوچ نے کہا کہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز گزشتہ 17 سال سے جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے خاتمے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے مطالبات کے لیے پُرامن اور جمہوری جدوجہد کررہی ہے۔ مختلف حکومتوں اور متعلقہ اداروں کی جانب سے متعدد مرتبہ یقین دہانیاں کرائی گئیں، تاہم ان پر مؤثر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملکی سلامتی کے نام پر جبری گمشدگیوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر نئے کیسز سامنے آرہے ہیں، جبکہ بعض جبری لاپتہ افراد کے ماورائے عدالت قتل کی اطلاعات بھی موصول ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق خواتین اور بچوں کے جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کے واقعات بھی سامنے آرہے ہیں۔
نصراللہ بلوچ نے کہا کہ حکومت نے 2025ء میں جبری گمشدگیوں سے متعلق قانون سازی کے بعد اعلان کیا تھا کہ 2 فروری سے جبری گمشدگیوں کا خاتمہ کیا جائے گا اور کسی شخص کو حراست میں لیے جانے کی صورت میں اسے 24 گھنٹوں کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا، تاہم ان کے بقول زمینی صورتحال اس حکومتی دعوے کے برعکس ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض افراد کے حراستی مراکز میں موجود ہونے کی اطلاعات کے باوجود انہیں مجسٹریٹ کے سامنے پیش نہیں کیا جارہا جبکہ اہلِ خانہ کو بھی اپنے پیاروں کے بارے میں مناسب معلومات فراہم نہیں کی جاتیں۔
مظاہرے کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند، تمام جبری لاپتہ افراد، بالخصوص بلوچ خواتین، کی بازیابی یقینی اور مبینہ ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ روکا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام لاپتہ افراد کو منظرِ عام پر لاکر عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے اور زیرِ حراست افراد کو قانونی چارہ جوئی کا حق فراہم کیا جائے۔
شرکاء نے مزید مطالبہ کیا کہ لاپتہ افراد کے خاندانوں کو ان کے پیاروں کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں اور جبری گمشدگیوں کے مسئلے کے مستقل حل کے لیے ملکی قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔