ایران جنگ پر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنانے والے امریکی فضائیہ کے افسر کے خلاف کارروائی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بی بی سی کے امریکہ میں شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق امریکی فضائیہ کے ایک افسر کو ایران جنگ پر ٹرمپ کے خلاف تنقید پر کارروائی کا سامنا ہے۔

سی بی ایس نیوز کے مطابق 40 سالہ میجر جیسن واٹسن کو حالیہ ہفتوں میں دو مرتبہ حراست میں لیا گیا۔ پہلی مرتبہ انھیں یکم جولائی کو اُس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب وہ امریکی کانگریس کی عمارت کیپٹل ہِل کے باہر وردی میں موجود تھے، ان کے ہاتھ میں ایک پلے کارڈ تھا جس پر لکھی تحریر میں ٹرمپ کے مواخذے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

گذشتہ ہفتے انھیں دوبارہ حراست میں لیا گیا جب انھوں نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو ایک انٹرویو میں کہا کہ صدر ٹرمپ ’صرف ایک ناکام صدر ہی نہیں بلکہ وہ کھلے عام آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، قانون توڑ رہے ہیں، بد عنوانی میں ملوث ہیں اور امریکیوں کی جانیں لے رہے ہیں۔‘

امریکی فضائیہ کے ترجمان نے منگل کو تصدیق کی کہ واٹسن پر آرٹیکل 88 کے تحت تین الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں سرکاری عہدیداروں کے خلاف توہین آمیز رویہ اختیار کرنے کا الزام بھی شامل ہے۔

ان پر احکامات کی خلاف ورزی اور ایک افسر کے شایانِ شان طرزِ عمل نہ اپنانے کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔

فضائیہ کا کہنا ہے کہ مقدمے کی کارروائی مکمل ہونے تک واٹسن کو حراست میں رکھا جائے گا۔

واٹسن کے وکلا کے مطابق وہ امریکی فوج کی تاریخ میں اپنے عہدے کے ایسے پہلے افسر ہیں جن پر آرٹیکل 88 کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article