وی بی ایم پی کے جاری احتجاجی کیمپ میں جبری لاپتہ افراد لواحقین کی شرکت

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6337ویں روز بھی جاری رہا۔

اس موقع پر داد محمد مری اور صالح محمد مری کے لواحقین نے کیمپ میں شرکت کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا۔ موریا مری نے کہا کہ صالح محمد مری اور داد محمد مری کو 23 مارچ 2013 کو سیکیورٹی فورسز نے پرانے بس اڈے کوئٹہ سے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کردیا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں افراد کا کیس تین سال تک کمیشن میں چلتا رہا۔ ان کی بازیابی کے لیے اعلیٰ حکام سے رابطوں کے علاوہ مسلسل پرامن احتجاج بھی ریکارڈ کراتے رہے ہیں، تاہم نہ تو ان کے پیارے بازیاب ہوئے اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی جارہی ہیں، جس کے باعث خاندان شدید کرب اور اذیت میں مبتلا ہے۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے اپنے پیاروں کی فوری بازیابی کی اپیل کی۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ جبری گمشدگیاں ماورائے آئین اقدام اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جبری گمشدگیوں کا فوری خاتمہ کیا جائے، کسی بھی شہری کو حراست میں لینے کی صورت میں اسے 24 گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے، جبکہ داد محمد مری اور صالح محمد مری سمیت تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ جن افراد پر الزامات ہیں انہیں منظرِ عام پر لاکر عدالت میں پیش کیا جائے اور انہیں قانونی چارہ جوئی کا حق دیا جائے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article