مستونگ اور کوئٹہ سے مزید 2 بلوچ نوجوان جبری طور پر لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
1 Min Read

بلوچستان کے علاقے مستونگ اور کوئٹہ سے پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کے ہاتھوں مزید 2 بلوچ نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی جانب سے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق جبری گمشدگی کا شکار ہونے والے نوجوانوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

مدثر بلوچ (ولد ٹکری بابُل): عمر 17 سال (پیشہ دوکاندار)، ساکن کاریز قاضی مستونگ۔ مدثر کو 21 اگست 2026ء کو دوپہر 2:00 بجے آر سی ڈی روڈ مستونگ پر واقع رحمان ہوٹل سے فرنٹئیر کور (FC) کے اہلکاروں نے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔

تنویر بلوچ (ولد خان محمد): عمر 22 سال (پیشہ میرج ہال ویٹر)، ساکن فرید کالونی کلی اسماعیل کوئٹہ۔ تنویر کو 27 جولائی 2026ء کو رات 3:00 بجے ان کے گھر (کلی اسماعیل کوئٹہ) سے سی ٹی ڈی (CTD) اور آئی ایس آئی (ISI) کے اہلکاروں نے اٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

خاندانوں اور حقوقِ انسانی کی تنظیموں نے دونوں نوجوانوں کی فوری اور بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article