بلوچستان سے پاکستانی فوج کے ہاتھوں مزید 4 نوجوان جبری لاپتہ، 4 بازیاب

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے مختلف علاقوں سے پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کے ہاتھوں مزید 4 نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ دوسری جانب پہلے سے جبری لاپتہ 4 نوجوان بازیاب ہو کر اپنے گھروں کو لوٹ آئے ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) اور خاندانی ذرائع کے مطابق فورسز نے مختلف کارروائیوں کے دوران درج ذیل 4 افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

شعیب بلوچ ولد محمد آصف : عمر 19 سال، ساکن کلی الماس ایئرپورٹ روڈ کوئٹہ، 4 اگست 2026ء کو صبح 4 بجے گھر سے حراست میں لیے گئے۔

محمد ناصر بلوچ ولد عبد النبی : عمر 23 سال (پیشہ ڈرائیور)، ساکن کچی بیگ کوئٹہ، 18 جولائی 2026ء کو رات 12:30 بجے گھر سے لاپتہ کیے گئے۔

اسرار بلوچ ولد عبد الرؤف : عمر 27 سال (پیشہ مزدور)، ساکن مین غوندی کوئٹہ، 26 جولائی 2026ء کو رات 3:00 بجے سریاب روڈ کوئٹہ سے اٹھائے گئے۔

بالاچ بلوچ ولد اصغر : پیشہ ماہی گیر، ساکن پسنی، جنہیں خاندانی ذرائع کے مطابق 15 اگست کی شام فورسز نے حراست میں لے کر جبری لاپتہ کر دیا۔

دوسری جانب کئی ماہ اور دنوں کی حراست کے بعد 4 لاپتہ نوجوان بحفاظت اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔

جلال ولد اسلم : ساکن جوسک (تربت)، جنہیں 30 جون 2026ء کو ان کی دکان سے اٹھایا گیا تھا، 1 ماہ 22 روز بعد ہفتے کی شب بازیاب ہو گئے۔

مہران بلوچ ولد بیگ محمد: ساکن کلیرو بل نگور (کیچ)، جو 15 جنوری 2026ء سے لاپتہ تھے، 21 اگست 2026ء کو انسدادِ دہشت گردی عدالت (ATC) تربت کے ذریعے بازیاب ہوئے۔

سید نظام شاہ ولد سید غیاث : ساکن شاہ سالار کلی سید قادر (دالبندین، چاغی)، 4 اگست 2026ء کو لاپتہ ہوئے اور 19 اگست کو دالبندین سے بازیاب ہو کر گھر پہنچے۔

اظہر الحق ولد عبد الحکیم: ساکن شاہ سالار کلی سید قادر (دالبندین، چاغی)، 4 اگست کو لاپتہ ہونے کے بعد 19 اگست کو دالبندین میں ہی بازیاب ہوئے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article