پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایوانِ زیریں میں دفاعی افواج اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی (NCA) سے متعلق دو اہم قوانین کثرت رائے سے منظور کر لیے ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے پیش کردہ ان بلز کے تحت پاک افواج کے کمانڈ سٹرکچر میں بنیادی تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔
‘پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026’ کے تحت دفاعی افواج کے ہیڈکوارٹر کے قیام کی منظوری دی گئی ہے۔ نئے قانون کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز (جو آرمی چیف ہی ہوں گے) قومی سلامتی اور مسلح افواج سے متعلق تمام معاملات پر وزیر اعظم کے اعلیٰ فوجی مشیر (پرنسپل ملٹری ایڈوائزر) ہوں گے اور تمام آپریشنل و کمانڈ کنٹرول انہی کے پاس ہوگا۔
نیشنل کمانڈ اتھارٹی ترمیمی بل کے ذریعے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا روایتی عہدہ ختم کر دیا گیا ہے اور ان کی جگہ چیف آف ڈیفنس فورسز کو این سی اے کا رکن بنایا گیا ہے۔
ملک کے تزویراتی و جوہری اثاثوں کی نگرانی کے لیے متعارف کروائے گئے نئے عہدے ‘کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ’ کو بھی باضابطہ قانونی حیثیت دیتے ہوئے نیشنل کمانڈ اتھارٹی میں شامل کر لیا گیا ہے۔
نئے ایکٹ کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج کے قوانین کے مطابق کسی بھی اہلکار کو ملازمت سے فارغ، ریٹائر، استعفیٰ منظور یا مسترد کرنے اور ملازمت کی مدت میں کمی بیشی کرنے کے اختیارات حاصل ہوں گے۔
قانون سازی کے مطابق یہ ترامیم پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد نفاذ کے لیے تیار ہیں، تاہم ان کا قانونی اطلاق نومبر 2025 سے متصور کیا جائے گا۔