پنجگور: سرکاری ٹیچر حاتم بلوچ کو جبری اغوا کے بعد قتل کردیا گیا،بی وائی سی کی شدید مذمت

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں پنجگور کے علاقے وشبود کے رہائشی اور 29 سالہ سرکاری ٹیچر حاتم بلوچ ولد احمد کے جبری اغوا اور بعد ازاں قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

ترجمان کے مطابق، حاتم بلوچ کو عید سے قبل وشبود کے مرکزی بازار سے ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے اہلکاروں نے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا، جس کے بعد وہ ہفتوں تک لاپتہ رہے۔ 8 اگست 2026 کو ان کی تشدد شدہ لاش سی پیک کے مرکزی شاہراہ پر واقع جعفر اسکیم کے قریب سے برآمد ہوئی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ حاتم بلوچ پیشہ کے لحاظ سے ایک استاد تھے جنہوں نے اپنی زندگی تعلیم کے فروغ کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ ایک شہری اور استاد ہونے کے ناطے انہیں تحفظ فراہم کرنے کے بجائے نشانہ بنایا گیا۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اس واقعے کو بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی شدید پامالیوں، ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کے تسلسل کا حصہ قرار دیا۔

ترجمان نے بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں اساتذہ، طلبہ، مزدور اور عام شہری مسلسل خوف اور غیر یقینی کی صورتحال کا شکار ہیں۔ عالمی برادری کو ان واقعات کی آزادانہ تحقیقات اور بلوچ عوام کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article