پنجگور میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں جبری لاپتہ 3 نوجوان بازیاب

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی جانب سے جاری کردہ تصدیق شدہ تفصیلات کے مطابق، پاکستانی فوج کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ کیے گئے ضلع پنجگور کے تین باشندے بازیاب ہو کر باحفاظت اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔

بی وائی سی کی جانب سے جاری پوسٹرزڈیٹاکے مطابق تمام افراد 18 اگست 2026ء کو آزاد ہوئے ہیں۔

بازیاب ہونے والے افراد کی شناخت لطیف ولد حاجی سلیم، رہائشی لیگورک پروم، پنجگور۔ انہیں 20 جون 2026ء کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔ ان کی بازیابی 18 اگست 2026ء کو کوئٹہ کے ٹیکسی اسٹینڈ کے مقام سے عمل میں آئی۔

صدیق ولد رسول جان، رہائشی لیگورک پروم، پنجگور۔ انہیں 26 جون 2026ء کو حراست میں لے کر لاپتہ کیا گیا تھا، جنہیں 18 اگست 2026ء کو پروم، پنجگور کے مقام پر آزاد کر دیا گیا۔

نصرت خان ولد خان محمد، رہائشی پروم، پنجگور۔ نصرت خان کو 2 مئی 2026ء کو جبری لاپتہ کیا گیا تھا، جو ساڑھے تین ماہ سے زائد عرصہ پراسرار حراست میں رہنے کے بعد 18 اگست 2026ء کو کوئٹہ میں بازیاب ہو کر آزاد ہوئے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ تمام افراد کے کوئٹہ اور پروم پہنچنے پر ان کے اہل خانہ اور علاقائی مکینوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، تاہم تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ دیگر تمام جبری طور پر لاپتہ افراد کو بھی فوری طور پر آزاد کر کے عدالتوں میں پیش کیا جائے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article