بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے 18 اگست 2026 کو جاری کردہ الگ الگ پوسٹرز میں تصدیق کی ہے کہ پاکستانی فوج ، سیکیورٹی اداروں، سی ٹی ڈی، پولیس اور رینجرز نے مختلف کارروائیوں کے دوران کراچی اور ضلع چاغی سے مزید 7 افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔
16 اگست 2026 کو کراچی کے ماڑی پور کے علاقے ٹکری گوٹھ میں پولیس، سی ٹی ڈی اور رینجرز نے مشترکہ چھاپے مار کر گھروں سے 5 افراد کو تحویل میں لیا۔جن کی شناخت محمد خالد (عمر 20 سال) ولد محمد شفیع، پیشہ ماہی گیری، رات 7:30 بجے۔ شہباز احمد (عمر 20 سال) ولد نیاز احمد، طالب علم، رات 7:30 بجے۔ سخی (عمر 25 سال) ولد کریم داد، پیشہ ماہی گیری، رات 2:00 بجے۔ عامر (عمر 30 سال) ولد احمد، پیشہ ماہی گیری، رات 2:00 بجے۔ دوست محمد (عمر 25 سال) ولد قاسم، پیشہ محنت کش، رات 7:30 بجے۔
اسی طرح ضلع چاغی سے 4 اگست 2026 کو رات 3:00 بجے شاہ سالار کلی سید قادر (چاغی) میں فرنٹیئر کور (FC) نے چھاپہ مار کر 2 نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا۔
جبری لاپتہ کئے گئے نوجوانوں کی شناخت سید نظام شاہ (عمر 22 سال) ولد سید غیاث، پیشہ زمیندار، اظہار الحق (عمر 18 سال) ولد عبدالحکیم، پیشہ دوکاندار کے ناموں سے ہوگئی ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ان تمام واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے لاپتہ افراد کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔