پاکستانی فوج نے بلوچستان میں مزید 2 افراد کو مارنے کا دعویٰ کیا ہے ۔
اس سے قبل گذشتہ دو دنوں میں خاران اور خضدار سے 17 افراد کو مارنے کا دعویٰ کرچکا ہے ۔
پاکستانی فوج کے سیکورٹی ذرائع کی جانب سے میڈیا کو جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے علاقے کلی زائیک میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 2 مسلح افراد کو ہلاک کردیا۔
بیان میں کہا گیا کہ انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی بسیمہ کیمپ سے 12 کلومیٹر شمال میں کلی زائیک اور کاغلی کے درمیان کی گئی۔
دعوے میں مزید کہا گیا کہ آپریشن میں 2 مسلح افراد کو ہلاک کیاگیا جبکہ 3 زخمی بھی ہوئے۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ آپریشن کے دوران قبضے سے ایمونیشن، میگزین، دستی بم اور آئی ای ڈیز تیار کرنے کا سامان بھی برآمد کیا گیا۔
ماضی کی طرح اس بار بھی مارے جانے والے افراد کی شناخت اور ان کی لاشوں کو ہسپتال منتقل کیے جانے سے متعلق کوئی معلومات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔ البتہ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے، جن میں سے چند کی شناخت کا عمل جاری ہے جبکہ بعض کی شناخت جبری لاپتہ افراد کے طور پر ہوئی ہے۔
اس امر کا قوی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان فوج کی جانب سے جن افراد کو مسلح جنگجو قرار دے کر مارنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، دراصل ان کا تعلق انہی برآمد ہونے والی لاشوں سے ہو سکتا ہے، جنہیں دورانِ حراست یا جعلی مقابلوں میں قتل کر کے مسلح افراد ظاہر کیا گیا ہے۔