آج 14 اگست ،پاکستان کی یومِ آزادی کو بلوچستان کے عوام سیاہ دن کے طور پر منا رہی ہے۔
بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) نےحسب روایت 14 اگست یعنی پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پر اسے "بلیک ڈے” (سیاہ دن) کے طور پر منانے کا اعادہ کرتے ہوئے اپنے باضابطہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ایک تفصیلی بیانیہ جاری کیا ہے۔
بی این ایم کے مطابق، 14 اگست وہ دن ہے جب برطانوی سامراج نے اس خطے میں ایک ایسی ریاست تشکیل دی جس کے نتائج آج تک اس خطے کی مظلوم اقوام بھگت رہی ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے خطے کی بالعموم اور زیرِ قبضہ علاقوں کی مظلوم اقوام بالخصوص شدید مظالم اور جبر کا شکار ہیں۔
بی این ایم کا کہنا ہے کہ 27 مارچ 1948 سے لے کر آج تک بلوچستان میں عام شہریوں پر بمباری، جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل اور گھروں کی مسماری جیسے اقدامات مسلسل جاری ہیں، اور بلوچ قوم اس دن کو خوشی کے بجائے سیاہ دن کے طور پر مناتی ہے۔
یاد رہے کہ بلوچستان کی تحریک آزادی کے ابھرنے کے بعد اس دن بلوچستان میں پاکستان کی جشنِ آزادی کی تقریبات محض کوئٹہ کینٹ اور سیکیورٹی فورسز کے کیمپوں تک محدود ہو کر رہ جاتی ہیں، جہاں عام بلوچ عوام کی شمولیت کے بجائے صرف چند سرکاری مراعات یافتہ اور حمایتی طبقات ہی شریک ہوتے ہیں۔
اس موقع پر بلوچستان کی آزادی کے لیے سرگرم مسلح تنظیمیں اپنی کارروائیوں میں شدت لاتی ہیں، شہروں کا رخ کرتی ہیں، فورسز اور حکام کو چیلنج کرتی ہیں اور سرکاری املاک و تقریبات کو نشانہ بناتے ہیں۔
سیکیورٹی خدشات اور احتجاجی لہر کے پیشِ نظر حکومت نے 14 اور 15 اگست کو بلوچستان بھر میں موبائل، انٹرنیٹ اور ٹرین سروسز مکمل معطل کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے، جبکہ ماضی کی طرح اس بار بھی رابطہ ذرائع کی معطلی سے عوام کو شدید مشقت کا سامنا ہے۔