بلوچستان اور سندھ میں گیس پائپ لائنوں پر دھماکے، کوئٹہ سمیت متعدد اضلاع کو گیس کی فراہمی معطل

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان اور سندھ میں گیس کی مرکزی پائپ لائنوں کو دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنائے جانے کے بعد دونوں ریجن میں گیس کی معطلی کا شدید بحران پیدا ہو گیا ہے، جبکہ سیکیورٹی کلیئرنس نہ ملنے کی وجہ سے بلوچستان میں مرمتی کام تاحال شروع نہیں ہو سکا۔

رپورٹس کے مطابق جمعرات کی رات تقریباً 2 بجے ضلع کشمور (سندھ) کے علاقے کندھ کوٹ میں بخش پور کے مقام پر مسلح افراد نے دھماکہ خیز مواد سے 36 انچ قطر کی گیس پائپ لائن کو تباہ کر دیا۔

یہ پائپ لائن سوئی سے کراچی گیس منتقل کرتی ہے۔

دھماکے کے نتیجے میں اس اہم روٹ پر گیس کی ترسیل شدید متاثر اور معطل ہو چکی ہے۔

دوسری جانب، بلوچستان کے علاقے بولان کے مقام گوکرت میں بدھ کے روز بم دھماکے سے تباہ کی جانے والی 18 انچ کی مرکزی گیس پائپ لائن اور اس کے ‘والو اسمبلی’ (Valve Assembly) کی مرمت کا کام دوسرے روز بھی شروع نہیں ہو سکا۔

سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام کے مطابق ان کی تکنیکی ٹیموں کو واقعے کی جگہ پر جانے کے لیے ابھی تک سیکیورٹی فورسز کی جانب سے سیکیورٹی کلیئرنس موصول نہیں ہوئی ہے۔

کلیئرنس ملتے ہی فوری طور پر بحالی کا کام شروع کر دیا جائے گا۔

مرکزی پائپ لائن کی تباہی کے باعث کوئٹہ، مچھ ، مستونگ، قلات، پشین اور زیارت کو گیس کی فراہمی مسلسل دوسرے روز بھی مکمل طور پر معطل ہے، جس سے عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

آزادی پسند مسلح بلوچ تنظیم یونائیٹڈ بلوچ آرمی (UBA) نے بولان کے علاقے گوکرت میں گیس پائپ لائن اور والو اسمبلی پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بولان میں سیکیورٹی فورسز اور انفراسٹرکچر پر مربوط حملے کیے اور سڑکیں بھی بلاک رکھیں۔

تاہم، ان تمام حملوں کی تفصیلات اور تنظیم کے دعوئوں کی حکومتی یا سرکاری سطح پر آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article