بلوچ نیشنل موومنٹ کے رہنما اور سابق سیکریٹری جنرل رحیم بلوچ ایڈووکیٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ روز پاکستانی فوج نے سوراب کے علاقہ گدر میں گوْندان گاؤں پر جیٹ طیاروں سے بمباری کیا۔ اس بمباری میں پاکستانی فوج نے معصوم بچوں اور خواتین سمیت دو درجن سے زائد بلوچوں کا قتل عام کرکے تخلیق پاکستان کے جشن کا آغاز کردیا۔
انہوں نے کہا کہ اس کُھلی ریاستی دہشتگردی اور انسانیت کے خلاف اپنے اس جرم پر پردہ ڈالنے کیلئے فوجی ترجمان نے حسب روایت ایک جھوٹی کہانی گڑھ لی اور اپنے اس جھوٹ کو پھیلانے کیلئے میڈیا کے منہ میں دے دیا۔ دیگر ریاستی ستونوں کے ساتھ بلوچ نسل کشی میں شریک بکاؤ میڈیا نے فوراً کمر کس کے ڈی جی آئی ایس پی آر کے اس گڑھی ہوئی جھوٹی کہانی کو پھیلانے لگی۔ نہ کسی میڈیا نمائندے نے بمباری کے شکار گاؤں گا دورہ کیا، نہ شہداء کے لواحقین کا موقف معلوم کیا، نہ علاقے کے باشندوں، سیاسی جماعتوں کے مقامی نمائندوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے وقوعہ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کسی نے کوشش کی، حالانکہ گدر کا علاقہ کوئٹہ سے ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر چین- پاکستان اقتصادی کوریڈور پر واقع ہے۔
رحیم بلوچ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر اور اس کا غلام میڈیا یہ بھول گئے کہ اب سوشل میڈ جیسے غیر روایتی ذرائع ابلاغ نے واقعات اور خبروں کی رپورٹنگ کیلئے روایتی میڈیا پر انحصار ختم کردیا ہے۔ اب قابض پاکستانی ریاست اور اس کے ستون جتنا بھی چاہیں بلوچستان میں اپنے نوآبادیاتی حکمرانی، اقتصادی لوٹ کھسوٹ، اور بلوچ نسل کش پالیسیوں اور کاروائیوں کو نہیں چھپا سکتے۔ قابض پاکستانی ریاست نہ تو اب بلوچ تحریک آزادی، بلوچوں کی جذبہ حریت، اور قربانیوں کو چھپانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور نہ اپنے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر پردہ ڈالنے پر قادر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچوں کی جذبہ حریت، اور قربانیوں کو چھپانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور نہ اپنے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر پردہ ڈالنے پر قادر ہے۔ سوراب میں اس قتل عام نے بلوچ اور پاکستان کے نوآبادیاتی رشتے کو مزید اجاگر کردیا ہے۔ بلوچ جانتے ہیں کہ آزادی کے سوا ان کے پاس قومی بقا اور باوقار زندگی کا دوسرا کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔ بلوچ قوم سوراب قتل عام کے مجرم ریاست پاکستان اور اس کے مقامی دلالوں کو ایک دن ضرور انصاف کے کٹہرے میں جواب دہ بنائے گی۔