بلوچ مسلح تنظیموں کے حملوں کا خدشہ: کوئٹہ شہر میں موبائل فون ڈیٹا اور ٹرین سروسز مکمل بند، سیکورٹی سخت

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان میں آزادی پسند بلوچ مسلح تنظیموں کے حملوں کے خدشے کے پیش نظر حکومت پاکستان نے اپنی جشن آزادی 14 سے 15 اگست کوئٹہ شہر میں موبائل فون ڈیٹا اور ٹرین سروسز کو مکمل بند کردیا اور سیکورٹی کو سخت کردیا ہے ۔

ماضی میں بلوچستان میں 14 اگست کو سیکورٹی فورسز اور جشن آزادی کے تقریبات وسرگرمیوں کو نشانہ بنایاگیا ہے ۔

کوئٹہ شہر سے اطلاعات ہیں کہ سیکورٹی خدشات کے پیش نظر موبائل ڈیٹا سروس ایک بار پھر بند کردی گئی جس کے باعث شہریوں کو انٹرنیٹ کے استعمال میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

کوئٹہ میں موبائل ڈیٹا سروس کی بندش کے باعث شہریوں کو آن لائن رابطوں اور انٹرنیٹ سروس کے استعمال میں دشواری پیش آرہی ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر سروس سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند کی گئی ہے تو متعلقہ حکام کو اس حوالے سے عوام کو بروقت آگاہ کرنا چاہیے۔

اہل کوئٹہ نے مطالبہ کیا ہے کہ سیکیورٹی صورتحال کے بارے میں شہریوں کو واضح معلومات فراہم کی جائیں اور موبائل ڈیٹا سروس بحال کی جائے۔

دوسری جانب کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کی آمدورفت 14اور15اگست تک بند کھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

محکمہ ریلویز نےریلوے ٹریک کی مرمت کے سلسلے میں اندورن ملک کیلئے ٹرین سروس ایک مرتبہ پھر معطل کردی کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کی آمدورفت 14اور15اگست کو بند رہے گی،،پشاور سےکوئٹہ آنےوالی جعفر ایکسپریس دو دن جیکب آباد تک محدود رہے گی ۔

ریلوے حکام کے مطابق محکمہ ریلویز نے ریلوے ٹریک کی مرمت کے سلسلے میں کوئٹہ سے پشاورکےلئے جعفرایکسپریس دو روز کےلئے معطل کردی ہے 14اور15اگست کو جعفر ایکسپریس کی آمدورفت بند رہے گی ، جبکہ پشاور سے کوئٹہ آنےوالی جعفرایکسپریس دو دن جیکب آباد تک چلائی جائےگی۔

ریلوے حکام کے مطابق کوئٹہ سے کراچی کیلئے بولان میل اور کوئٹہ سے چمن کیلئے چمن ٹرین پچھلے چھ ماہ سے معطل ہیں۔

ٹرین اور موبائل انٹرنیٹ سروسز کے بندش کے بعد سیکورٹی بھی سخت کردی گئی ہے ۔کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں فورسز کی بڑی تعدادتعینات کردی گئی ہے جبکہ ریڈ زون کو مکمل سیل کردیا گیا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article