تہران کے میئر علیرضا زکانی نے دعویٰ کیا ہے کہ 28 فروری کو جس میزائل حملے میں ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ جس حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہوئے اس کا اصل ہدف مجتبیٰ خامنہ ای تھے۔
یاد رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کی جگہ ملک کا رہبرِ اعلیٰ مقرر کیا گیا تھا۔
12 اگست کو سٹوڈنٹ نیوز نیٹ ورک (ایس این این) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں زکانی کا کہنا تھا کہ ’میزائل نے بالکل اس منزل کو نشانہ بنایا جہاں وہ [مجتبیٰ خامنہ ای] مقیم تھے۔ حملوں کا ہدف وہی تھے۔‘
تہران کے میئر کا کہنا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ زہرا حداد کا معمول تھا کہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے سات بجے کام کے لیے روانہ ہو جاتی تھیں۔ ان کے مطابق حملے کے روز زہرا حداد طبیعت ناساز ہونے کے باعث گھر پر ہی موجود تھیں۔
انھوں نے بتایا کہ حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہوئے تھے۔
28 فروری 2025 کو امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایرانی رہبرِ اعلیٰ کے رہائشی کمپاؤنڈ پر میزائل حملہ کیا تھا۔